(۱۰) باؤنڈری کمیشن
اﷲوسایا کی کتاب کے مطابق اٹارنی جنرل نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سامنے یہ اعتراض بھی اُٹھایا کہ:۔
’’ بوقتِ آزادی اور سرحدوں کی حد بندی کے وقت قادیانیوں نے ایک عرضداشت پیش کی کہ وہ مسلمانوں سے الگ ایک جماعت ہیں۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ پنجاب کے کنارے کے علاقوں میں مسلمان آبادی کا تناسب گھٹ گیا اور بالآخر (ایوارڈ) فیصلے میں گورداسپورہندوستان کو دے دیا گیا تا کہ وہ کشمیر سے تعلق رکھ سکے ‘‘۔ (صفحہ ۸۳)
اور پھر جماعت احمدیہ کے امام جب ایک دوسرے سوال کی وضاحت میں جواب ریکارڈ کروا رہے تھے تو انہوں نے خلیفۂ ثانی کے۱۳؍ نومبر ۱۹۴۶ء کے خطبہ کی وضاحت کرنا چاہی تو اٹارنی جنرل نے طنزاً کہا:۔
اٹارنی جنرل: ’’ ہندوؤں نے کہا کہ احمدی مسلمانوں سے علیحدہ ہیں ۔ آپ نے واقعہ میں مسلم لیگ سے علیحدہ میمورینڈم پیش کر دیا اور یوں مسلمانوں کی تعداد ۵۱ سے ۴۹ رہ گئی۔ آپ کا خیال ہے کہ آپ اس سے مسلم لیگ کو مضبوط کررہے تھے۔ ٹھیک ہے فائل کرا دیں اور آگے چلیں۔‘‘ (صفحہ۱۴۷)
جناب اٹارنی جنرل نے جس انداز سے اس سوال سے جان چھڑائی اس سے اٹارنی جنرل کی یا تو دیانت مشتبہ ہو جاتی ہے یا ان کی ذہانت پر زد پڑتی ہے۔ مجلسِ احرار اور کانگریسی علماء بلکہ بعض مسلم لیگی علماء بھی اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں۔ مسلم لیگ میں جب یہ سوال اٹھایا گیا کہ احمدی مسلم لیگ کے ممبر نہ بنائے جائیں تو قائد اعظم نے سختی سے اس بات کو دبا دیا۔ لیکن مجلسِ احرار اور کانگریس کے ڈھنڈھورچی بدستور شور مچا رہے تھے اور اس صورتِ حال سے کانگریس بھر پور فائدہ اٹھانا چاہتی تھی، اور یہ بات سمجھنے کے لئے بہت باریک بینی اور غیر معمولی ذہانت کی ضرورت نہیں، اس وجہ سے مسلم لیگ ہائی کمان نے بٹالہ مسلم لیگ اور جماعت احمدیہ کو علیحدہ میمورنڈم داخل کرنے کی اجازت دی۔ گوردا سپور کے ضلع میں مسلم اکثریت بہت معمولی تھی اور کانگریس احمدیوں کو مسلمان شمار نہ کئے جانے میں کامیاب ہو جاتی تو وہ معمولی اکثریت بھی ختم ہو جاتی۔ اس لئے اس بات کا ہر طرح سے یقینی بنایا جانا ضروری تھا تا کہ کوئی دور کا شائبہ بھی اس بات کانہ رہ جائے کہ احمدیوں کو مسلمان شمار نہ کیا جائے۔ چنانچہ احمدیوں نے قادیان کے لئے اپنا کلیم اس بنیاد پر داخل کیا کہ احمدی مسلمان ہیں اور قادیان مسلمانوں کی ایک فعال جماعت کا روحانی مرکز ہے اور دنیا بھر سے آنے والوں کا مرجعِ خلائق ہے۔
اس کے علاوہ سکھوں کی طرف سے ننکانہ صاحب کی وجہ سے شیخوپورہ کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ بٹالہ مسلم لیگ کی طرف سے جو میمورنڈم داخل کیا گیا اس میں بٹالہ کی تاریخی اہمیت‘ بٹالہ کی مسلمان آبادی‘بٹالہ کی مسلمان انڈسٹری اور بٹالہ تحصیل میں واقع قادیان کے ذکر میں لکھا۔
’’اگر مذہبی مقامات اور زیارتوں کو زیر غور لانا ہے تو بٹالہ صدر پولیس سٹیشن میں واقع قادیان کا قصبہ خاص توجہ کا مستحق ہے ۔ مسلمانوں میں سے احمدی مرزا غلام احمد کو نبی تصور کرتے ہیں۔۔۔‘‘۔
احمدیوں نے اپنے میمورنڈم کے شروع ہی میں آٹھ اہم نکات قادیان کو پاکستان میں شامل کئے جانے کی بنیاد کے طور پر درج کئے۔ جس میں پہلا نکتہ یہ تھا کہ قادیان اسلام میں عالمگیر جماعت احمدیہ کا فعال مرکز ہے۔ اور ساتواں نکتہ یہ تھا کہ قادیان جس ضلع میں واقع ہے اس میں واضح مسلمان اکثریت ہے۔
جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں اہم نکات بیان کرنے کے بعد پہلے ہی پیرے میں لکھاکہ جماعت احمدیہ جو مسلمانوں کا اہم مذ ہبی حصہ ہے اور جس کی دنیا بھر میں شاخیں ہیں اس کا مرکز ضلع گوردا سپور میں ہے۔مغربی اور مشرقی پنجاب کی عبوری تقسیم میں یہ ضلع دونوں حصوں کی سرحد پر واقع ہے اور باؤنڈری پر فریقین کے تنازع میں اس ضلع پر دونوں فریق نے دعویٰ کیاہے۔ لہٰذاجماعت احمدیہ اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لئے ضروری سمجھتی ہے کہ اپنا نقطۂ نظر باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش کرے ۔ چنانچہ میمورنڈم کے آغاز ہی میں میمورینڈم کے پیش کئے جانے کی اغراض بیان کرتے ہوئے تین مرتبہ اس بات کا اظہارموجود ہے کہ احمدی مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اس لئے ضلع گورداسپور پاکستان میں شامل ہونا چاہئے۔
جب اس میمورینڈم پر بحث کا وقت آیا تو بحث کے پہلے فقرہ ہی میں کہا گیا کہ قادیان کو مغربی پنجاب میں شامل ہونا چاہئے۔ اور دورانِ بحث اس بات پر زور دیا گیا کہ ’’قادیان جو تحصیل بٹالہ میں ہے‘ مسلم اکثریت کا علاقہ ہے۔‘‘
جماعت احمدیہ کے میمورینڈم اور بحث کے علاوہ باؤنڈری کمیشن کی کارروائی میں یہ بات بار بار سامنے آئی کہ احمدی مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔بحث کے دوران احراری اور کانگریسی علماء کے پھیلائے ہوئے زہر کا اثر جسٹس تیجہ سنگھ کے ایک سوال سے بھی ظاہر ہوا۔
’’مسٹرجسٹس تیجہ سنگھ: احمدیہ جماعت کی اسلام کے حوالہ سے کیا پوزیشن ہے؟
شیخ بشیر احمد: وہ اول و آخر مسلمان ہونے کے مدعی ہیں۔ وہ اسلام کا حصہ ہیں‘‘۔
اس طرح سے خود کانگریس کے وکیل نے اپنی بحث میں ضلع گوردا سپور کو غیر مسلم اکثریت کا علاقہ قرار دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ضلع گورداسپور میں مسلمانوں کی اکثریت صرف اس وجہ سے ہے کہ تین چھوٹے چھوٹے حصوں یعنی قادیان، فتح گڑھ چوڑیاں اور بٹالہ میں ان کی اکثریت بہت زیادہ ہے۔ اور ان تین علاقوں کے مسلمانوں کی تعداد نکال دی جائے تو ضلع غیر مسلم اکثریت کا نظر آتا ہے۔گویا سیتل واڈ نے بھی قادیان کو مسلم اکثریت کے علاقہ کے طور پر شمار کیا اور اپنی بحث کو ایک نیا موڑ دے دیا۔
سیتل واڈ کی بحث کے دوران جسٹس منیر نے کہا :۔
’’مسٹر جسٹس منیر احمد:میں سمجھ گیا ہوں بٹالہ کے یہ چھوٹے چھوٹے دو نقطے دیکھیں ۔ آپ ان کے بارہ میں کیا کہتے ہیں۔
مسٹر سیتل واڈ: تیسرا قادیان کا قصبہ ہے۔
مسٹر جسٹس منیر: اس کی آبادی کیا ہے؟
مسٹر سیتل واڈ: اعداد وشمار ابھی آپ کو دیتا ہوں۔
مسٹر جسٹس منیر: کیا میں سمجھوں کہ اس پوری تحصیل میں قادیان کے علاوہ کوئی مسلم اکثریت کا علاقہ نہیں۔
مسٹر سیتل واڈ: نہیں جہاں تک میں نقشہ کو دیکھتا ہوں ایسا ہی ہے۔ ہم نے مسلم اکثریت کے بڑے بڑے علاقے چنے ہیں اور ہمیں اس سائز کے اور علاقے نہیں ملتے۔لہٰذا ہم نے ان کو نقشے پر علیحدہ ظاہر نہیں کیا‘‘۔
اسی طرح اپنی جوابی بحث میں مسٹر سیتل واڈ نے کہا:
’’ اب اگلے نقطے پر آئیے جو بٹالہ ہے اس میں آپ تین سفید حصے دیکھیں گے۔ میں آپ کو اس تحصیل کے اعداد وشمار دیتا ہوں۔
مسلمان : 209277
غیر مسلم : 177776
31501 کا فرق ہے اور یہاں میں نے تینوں pockets کو اکٹھا لے لیا ہے۔ پہلا فتح گڑھ چوڑیاں ہے جہاں مسلمان18055 اور غیر مسلم 4641 ۔ دوسرا بٹالہ کا شہر اور مضافاتی گاؤں ہیں جہاں مسلمان 45181 اور غیر مسلم 4664۔ تیسرا حصہ قادیان ہے جہاں مسلمان 10226 اور غیر مسلمان 1135 ہیں۔ اگر ہم تینوں کو اکٹھا لے لیں تو مسلمانوں کی مجموعی تعداد 73462 اور غیر مسلموں کی 22227 ہے‘‘۔
(Partition Of Punjab Vol. II; P:528)
گویا ساری کارروائی کے دوران قادیان اور احمدیوں کو مسلمانوں کے ساتھ شامل کیا جاتا رہا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ احمدی الگ ہو گئے اور مسلمانوں کی اکثریت گھٹ گئی، ایک بیہودہ، نامعقول اورشرمناک جھوٹ ہے اور سرکاری ریکارڈ اس جھوٹ کی تردید کررہا ہے۔
شیخ بشیر احمد کی بحث کے دوران جب احمدیوں کی تعداد 5,00,000 بتائی گئی تو جسٹس تیجہ سنگھ نے پوچھا:
’’مسٹر جسٹس تیجہ سنگھ: کیا انہیں گزشتہ مردم شماری کے دوران علیحدہ شمار کیا گیا تھا۔
شیخ بشیر احمد: گزشتہ مردم شماری میں احمدیوں کا کوئی فرق روا نہیں رکھا گیا ۔ جو فرق تسلیم کیا گیا و ہ یہ تھا کہ اگر کوئی خود کو شیعہ ظاہر کرے تو اس کو شیعہ درج کیا جائے اوراگر کوئی شخص کوئی اور تفصیل بتائے تو اس کوسُنّی درج کیا جائے‘‘۔
مگر اٹارنی جنرل بااصراراس بات کو پیش کرتے رہے کہ احمدیوں نے باؤنڈری کمیشن میں الگ میمورینڈم پیش کرکے خود کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کیا جس سے مسلمانوں کی تعداد گھٹ گئی اور گورداسپور،ہندوستان کو چلاگیا۔ اٹارنی جنرل صاحب مسلم لیگی تھے اور سیاسی کارکن رہے ہیں۔اگر پہلے احراری لیڈروں کے مسلسل جھوٹ کے زیر اثر وہ کوئی غلط تأثر قائم کر بھی چکے تھے تو باؤنڈری کمیشن کی پوری کارروائی شائع ہوچکی ہے، اس سے استفادہ کر سکتے تھے۔ یقیناًجناب یحيٰ بختیار پڑھنے لکھنے کا ذوق رکھتے ہوں گے اور ان تاریخی دستاویزات کا مطالعہ تو انکا محبوب مشغلہ رہاہوگا۔ ان کے علم میں ہونا چاہئے تھا کہ یہ اعتراض مجلسِ احرار کی طرف سے اٹھایا گیا، کبھی مسلم لیگ کی ہائی کمان کی طرف سے یہ اعتراض نہیں اٹھایا گیا۔
مذہبی امور میں مولوی حضرات کے مہیّا کردہ سوالات کے بارہ میں اٹارنی جنرل صاحب کی مجبوری سمجھ میں آ سکتی ہے مگر اس سیاسی سوال پر اٹارنی جنرل صاحب کی لا علمی نا قابلِ فہم ہے۔ اﷲ وسایا کی کتاب سے ظاہر ہے کہ اٹارنی جنرل باؤنڈری کمیشن میں جماعت احمدیہ کے میمورینڈم کامطالعہ کر چکے تھے، کیونکہ احمدیوں کی تعداد کے بارے میں اُسی میمورینڈم کے حوالہ سے دوسری جگہ سوال و جواب موجود ہے۔
یہ اب تاریخی طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ریڈ کلف کا ایوارڈ غیرمنصفانہ تھا۔ ایوارڈ کا اعلان کرنے میں تاخیر ہورہی تھی۔ طرح طرح کی خبریں سننے میں آرہی تھیں ۔ جنکی وجہ سے چوہدری محمد علی صاحب جو مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے وہ قائداعظم کے ارشاد پر قائداعظم کی تشویش کا اظہار کرنے کے لئے دہلی تشریف لے گئے اور یہ تشویش ضلع گورداسپور کے بارے میں تھی۔ اس بارے میں چوہدری محمد علی کا بیان یہ ہے:۔
as in the sketch-map.
(Ch. Muhammad Ali, Emergence of Pakistan; Published by Research Society of Pakistan ; Page 218)
ترجمہ:۔
’’جب میں دہلی پہنچا تو میں ائرپورٹ سے سیدھا وائسرائے ہاؤس گیا جہاں لارڈایزمے کام کیا کرتے تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ لارڈ ایزمے سر سیرل ریڈکلف کے ساتھ بند کمرے میں مصروف ہیں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ ان کے فارغ ہونے تک میں انتظار کروں گا۔تقریبًا ایک گھنٹے بعد جب میں ان سے ملا تو میں نے انہیں قائد اعظم کا پیغام دیا۔ جوابًا لارڈ ایزمے نے باؤنڈری کمیشن سے متعلق ریڈکلف کے خیالات کے بارہ میں مکمل لاعلمی کا اظہار کیا اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ نہ تو انہوں نے خود اور نہ ماؤنٹ بیٹن نے اس مسئلہ پر ان سے کوئی گفتگو کی ہے۔ فیصلہ کرنا کلیۃً ریڈکلف کا کام ہے اور کسی قسم کی کوئی تجویز نہ انہیں دی گئی ہے اور نہ دی جائے گی۔ جب میں نے ایزمے کو ان اطلاعات کی تفصیلات سے آگاہ کیا جو ہمیں مل رہی تھیں تو انہوں نے کہا کہ وہ میری بات سمجھ نہیں سکے۔ کمرے میں ایک نقشہ لٹکا ہوا تھا میں نے انہیں اس نقشہ کی طرف بلایا تا کہ نقشہ کی مدد سے صورتحال واضح کر سکوں۔پنجاب کے نقشہ کے بیچوں بیچ پنسل سے ایک لائن کھینچی ہوئی تھی اور یہ لائن اس باؤنڈری کے مطابق تھی جس کی اطلاعات قائداعظم کو مل رہی تھیں۔ میں نے کہا کہ اب مزید وضاحت ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ نقشہ پر موجود لائن اس باؤنڈری کو ظاہر کر رہی ہے جس کے بارہ میں میں بات کر رہا ہوں۔ ایزمے کا رنگ پیلا پڑ گیا اور گھبراہٹ میں کہنے لگے ان کے نقشہ کو کون چھیڑتا رہا ہے۔ یہ لائن حتمی باؤنڈری سے صرف ایک لحاظ سے مختلف تھی یعنی فیروز پور اور زیرہ کی مسلمان اکثریت والی تحصیلیں اس وقت تک بھی اس نقشہ میں پاکستان کی طرف تھیں‘‘۔
جسٹس منیر اپنی کتاب From Jinah to Zia میں لکھتے ہیں۔
asked to proceed with our work. (From Jinah to Zia;2nd Edition, Page 12)
ترجمہ:۔
’’ہمارے استعفیٰ دینے کا ایک اور موقعہ اس وقت پیدا ہوا جب شملہ میں سر سیرل سے ایک انٹرویو کے بعد جسٹس دین محمد یہ تاثر لے کر باہر آئے کہ گورداسپور کا سارا ضلع کشمیر کو ایک رابطہ کے ساتھ ہندوستان کو جا رہا ہے۔ لیکن ہمیں پھر یہ کہا گیا کہ ہم اپنا کام جاری رکھیں۔‘‘
پھر آگے چل کر گورداسپور کے بارہ میں لکھتے:۔
also, which was Muslim area (59.04) he refused to join with the district of Lahore and
gave it to India. (From Jinah to Zia; 2nd Edition, Page 13)
ترجمہ:۔’’زیر بحث سوالات میں سے ایک گورداسپور تھا جو مسلم اکثریت کا ضلع تھا اور اگر اس میں سے پٹھان کوٹ مشرقی جانب ہندو اکثریت کے حصہ کے ساتھ شامل کر دیا جاتا تو گورداسپور میں غالب اکثریت مسلم اکثریت ہو جاتی۔ لیکن پٹھان کوٹ چونکہ کلیۃً ہندو علاقہ میں تھا اور مادھو اور ہیڈورک سے زیادہ تر مسلم اکثریت کے علاقوں کی آب پاشی ہوئی تھی اس لئے یہ اس کی مغربی جانب کا حصہ پاکستان کو جانا چاہئے۔ لیکن اس دلیل کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا اور اس نے گورداسپور اور بٹالہ دونوں مسلم اکثریت کے علاقے ہندوستان کو دے دیئے۔ امرتسر کی تحصیل اجنالہ جو مسلمان علاقہ تھا (59.04) کو اس نے لاہور کے ساتھ شامل کرنے سے انکار کر دیا اور وہ بھی ہندوستان کو دے دیا۔‘‘
جسٹس منیر مزید لکھتے ہیں :۔
Beas and the Satluj. (From Jinah to Zia; 2nd Edition, Page 14)
ترجمہ:۔’’ اس بات کے زبانی اور تحریری طور پر قطعی ثبوت موجود ہیں کہ فیروز پور کی تحصیل اور ستلج اور بیاس کے درمیانی علاقوں کے بارے میں ایوارڈ میں ردوبدل کیا گیا۔‘‘
قائداعظم جو ایسے معاملوں میں بہت احتیاط سے کام لیتے تھے خود انہوں نے فرمایا:۔
ترجمہ:۔
’’ ہندوستان کی تقسیم اب حتمی اور ناقابل تنسیخ طور پر عمل میں آ چکی ہے۔ اس میں بلاشبہ ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس عظیم خود مختار مسلم ریاست کے قیام میں ناانصافیاں ہوئی ہیں اور باؤنڈری کمیشن کے ہاتھ جو ہمیں آخری ضرب پہنچی ہے اس کے ذریعہ ہمیں جہاں تک ہو سکا ہے سکیڑ دیا گیا ہے۔ یہ ایک غیر منصفانہ ناقابل فہم بلکہ غلط ایوارڈ ہے۔ گو یہ غیر منصفانہ اور غلط ایوارڈ ہے اور یہ انصاف کی بجائے سیاست پر مبنی ایوارڈ ہے لیکن ہم نے اسے تسلیم کرنے کا اقرار کیا تھا اور اب ہم اس کے پابند ہیں۔ ایک باوقار قوم کی حیثیت سے ہمیں اسے قبول کرنا ہوگا۔‘‘
دنیا بھر کے محققین ریڈ کلف کی شرمناک بددیانتی پر متفق ہیں ۔ مگر مجلس احرار، کانگریسی علماء اور مجلس ختم نبوت کا سارا زور اس بات پر ہے کہ ریڈ کلف بیچارہ کیا کرتا، احمدیوں نے اعدادوشمار ہی ایسے دے دیئے۔گویا ریڈکلف تونہایت صاف ستھرا، دیانتداراور منصف مزاج آدمی تھا، ایوارڈ بالکل درست ہورہاتھا، احمدیوں نے الگ میمورینڈم داخل کرکے یا اعداد وشمار داخل کرکے گورداسپور کو ہندوستان میں شامل کرنے کا راستہ صاف کردیا۔ یہ ریڈکلف کے گماشتے اتنا بھی نہیں جانتے کہ گورداسپور اور زیرہ وغیرہ اعداد وشمار کی بنا پر ہندوستان کو نہیں دیئے گئے، Other Factors کی بنیاد پر دئیے گئے ۔اس بارے میں بددیانت اور ظالم ریڈکلف کوخود بھی شرم آئی اور وہ جو کسی بات کی توجیہ پیش کرنے کا پابند نہیں تھا اسے توجیہ پیش کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ چونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ کھلی کھلی بددیانتی کا مرتکب ہورہا تھا، اس لئے اس نے ایک لولا لنگڑا عذرپیش کر دیا۔
The Partition of Punjabکے شروع میں پیش لفظ کے بعد شریف الدین پیرزادہ کا ایک مضمون ریڈ کلف ایوارڈ کے بارہ میں شامل کیا گیا ہے ۔اس مضمون میں شریف الدین پیر زادہ جسٹس منیر کے مضمون Days to Remember کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ گورداسپور کے بارہ میں ریڈ کلف سے گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس منیر نے لکھا ہے :
(27e)
ترجمہ:۔
’’ یہ مسلمان اکثریت کا علاقہ تھا لہٰذا اگر ضلع کو اکائی سمجھا جاتا تو یہ سارا ضلع پاکستان کو جانا چاہئے تھا لیکن اگر۔۔۔ضلع کو تقسیم کرنا تھا توپھر پٹھانکوٹ کو اس سے الگ کیا جاسکتا تھا ۔ شکر گڑھ نہ صرف مسلم اکثریتی علاقہ تھا بلکہ طبعی طور پر اکائی تھا کیونکہ راوی اس کی مشرقی سرحد بنتا تھا اور یوں اسے توڑنے کا کوئی تصور نہیں تھا‘‘۔
یہ اسی مضمون کا حوالہ ہے جس کا ذکر اٹارنی جنرل کررہے ہیں۔ گویا جسٹس منیر واضح طور پر لکھ رہے ہیں کہ گورداسپور مسلمان اکثریتی علاقہ ہی تھا۔ کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ اس کی مسلم اکثریت احمدیوں کی وجہ سے گھٹ گئی تھی۔
جسٹس منیر مزید لکھتے ہیں:۔
thedifferent canals dependent on these headworks."
(Notes on the Radcliffe Award by S Sharif-ud-Din Pirzada; The Partition of The Punjab, Vol I; -- National Documentation Center, 1983, Page xxxvi)
ترجمہ:
’’مزید برآں ایوارڈ میں اس بات کے اندرونی شواہد موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایوارڈ کسی منصفانہ نتیجہ پر پہنچنے کیلئے کسی دیانتدارانہ کوشش کا نتیجہ نہیں ہے۔ میں بتا چکا ہوں کہ سر سیرل ؔ نے اس ایوارڈ کی کوئی وجوہات یا دلائل بیان نہیں کئے۔ لیکن بایں ہمہ ان دو تحصیلوں کے ہندوستان میں شامل کرنے کی دلیل ضرور دی گئی ہے۔ اور وہ دلیل معقول (قائل کرنے والی) نہیں ہے۔ وہ دلیل یوں ہے، دریائے ستلج کے مشرق کی جانب معتدبہ علاقے جو تھوڑے بھی نہیں ہیں اور ستلج اور بیاس کے درمیانی علاقہ کے بارہ میں جو مسلم اکثریت کے علاقے ہیں۔میں طویل تذبذب کا شکار رہا ہوں لیکن بحیثیت مجموعی میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ دونوں ریاستوں میں سے کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا کہ مغربی پنجاب کی حدود کو ستلج دریا کے بیرونی طرف تک بڑھا دیا جائے اور ریلوے کے رسل و رسائل اور آبپاشی کا نظام ایسے عوامل ہیں جو اس موقعہ پر ملحقہ اکثریتی آبادیوں کی دلیل پر حاوی ہیں۔ مجھے اس جانب توجہ دلانی ہے کہ دیپال پور نہر جو کہ مغربی پنجاب کے علاقوں کو سیراب کرتی ہے وہ فیروز پور ہیڈ ورکس سے نکلتی ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس نقطہ پر باؤنڈری کی ایسی نشاندہی بہت مشکل ہے جس میں اس ہیڈورکس سے نکلنے والی مختلف نہروں کے مشترکہ کنٹرول کا نظام شامل نہ ہو۔‘‘
شریف الدین پیرزادہ نے اپنے مضمون میں Aloys A. Michelکی کتاب The Indus Riverکا حوالہ بھی درج کیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں:۔
Had Radcliffe awarded Gurdaspur to Pakistan, there would have been no land commmunication between India
and Jammu-Kashmir
(Notes on the Radcliffe Award by S Sharif-ud-Din Pirzada; The Partition of The Punjab, Vol I; -- National Documentation Center, 1983, Page xxxix)
ترجمہ:۔
’’لیکن گورداسپور کے معاملہ میں''Other Factors'' زیرِغور آگئے ، جیسا کہ فیروز پور کے بارہ میں آئے تھے اور آبپاشی کا نظام ان میں سے ایک تھا۔یوں نظام آبپاشی کی دلیل آبادی کی دلیل کو تقویت پہنچاتی ہوئی معلوم ہوتی ہے ۔ اگر’’ ملحقہ اکثریتی آبادی ‘‘ کا اصول ضلعوں پر مجموعی طور پر لاگو کیا جاتا تو منطقی طور پر فیروز پور ،ا مرتسر اور جالندھرہندوستان کو دئے جاتے اور گورداسپور پاکستان کو۔اور اگر نظامِ آبپاشی کی دلیل کو فوقیت دی جاتی تو پھر مادھوپور ہیڈورکس ، جس سے لاہور کا ضلع سیراب ہوتا تھا اور پاکستان کو پانی دئے بغیر لاہور کو پانی مہیا نہیں کر سکتا تھا، پاکستان کو کیوں نہ دیا جاتا۔ پاکستان دو جنوبی لہروں کا پانی روک لیتا تو ہندوستان فیروز پور ہیڈ ورکس سے دیپالپور کی نہر کا پانی روک سکتا تھا۔۔۔۔۔۔ مگر آبپاشی کی سیدھی سادی منطق گورداسپور کے معاملہ میں بظاہر مزید''Other Factors''کی زد میں آگئی۔ مشرقی پنجاب ، اور یوں ہندوستان کو جموں اور کشمیر سے ملانے والی واحد سڑک گورداسپور میں واقع تھی اور راوی پر مادھوپو ر ہیڈورکس کا پل لاہور کے بالائی علاقہ میں واحد پل تھا۔ امرتسر اور جالندھر سے ریل پٹھانکوٹ پر ملتی تھی، جس کی ایک شاخ مادھو پور کو جاتی تھی ۔ اگر چہ دریا کے اس پار ، اس وقت ریل کا کوئی راستہ نہیں تھا
(جو۱۹۶۵ء میں زیر تعمیرتھا) ۔اگر ریڈ کلف گورداسپور پاکستان کو دے دیتا تو ہندوستان اور جموں کشمیر کے درمیان کوئی زمینی رابطہ نہ رہتا‘‘۔
الغرض باؤنڈری کمیشن کے رکن جسٹس محمد منیر، قومی اور بین الاقوامی محققین سب اس بات پر متفق ہیں کہ گورداسپور بددیانتی سے ہندوستان کو دے دیا گیا اور اس بارہ میں اکثریت کے اصول کو نظر انداز کردیا گیا۔
یہ ساری تفصیلات پاکستان کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی بیدار مغز علم دوست اور سیاسی وقائع سے دلچسپی رکھنے والے شہری کو معلوم ہونی چاہئیں ۔کم از کم مسلم لیگی کارکنان اور سب سے بڑھ کر مسٹر یحییٰ بختیاراٹارنی جنرل کے علم میں ہونی چاہئے تھیں۔مگر اٹارنی جنرل تومولویوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے۔ سچائی سے انہیں کوئی سروکار نہیں تھا اور جھوٹ کو اچھا ل رہے تھے۔
