سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۱؍جولائی ۱۹۱۶ء میں تشہد تعوذ و سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیتِ قرآنی کی تلاوت کی
وَاذَاسَألَکَ عِبادِی عَنِّی فَاِنّی قَریْبٌ ۔اُجِیْبُ دَعوَۃَ الدٖاعِ اِذَا دَعَانِ فَلیَستَجِیْبُوْا لِی وَلیُؤمِنُوا بِی لَعَلٖھُمْ یَرْشُدُوْنَ۔ (البقرہ:۱۸۷)
اور پھر فرمایا :
’’میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں بیان کیا تھاکہ اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو میں اس امر کے متعلق کچھ بیان کرناچاہتاہوں کہ انسان کو دعا کس رنگ اورکس طریق میں کرنی چاہئے جس کے نتیجے میں قبولیت کا وہ زیادہ امیدوار ہو ۔ اوروہ کیا شرائط ہونے چاہئیں جنکے مطابق کی ہوئی دعا خدا تعالیٰ کے حضور قبول ہو جائے۔ یوں تو اللہ تعالیٰ بادشاہ ہے اور ہم اس کی رعایا۔ کسی کی درخواست اور عرضی کوقبول کرنا بادشاہ کا اپنا کام ہے رعایا کانہ یہ فرض ہے نہ کام ہے اور نہ حق ہے کہ بادشاہ یاحاکم ضرور ہی اس کی درخواست کو قبول کرے ۔ اگر وہ ہر بات کو قبول کرے اور ضرور قبول کرے تو گویا وہ نوکر ہوا اور رعایا آقا۔ وہ خادم ہوا اور رعایا مخدوم۔ کیونکہ جوکسی کی ہر ایک بات ماننے کے لئے مجبور ہوتاہے وہ آقا نہیں بلکہ خادم ہوتاہے۔ آقا خادم کی بات ماننے کے لئے مجبور نہیں ہوتا بلکہ مختار ہوتا ہے ۔ اس کے اختیار میں ہوتاہے کہ چاہے تو قبول کرے اس کے لئے وہ مجبور نہیں ہوتا۔ اور چاہے تو رد کر دے اس سے اس پر کوئی الزام نہیں آتا ۔ چونکہ خدا تعالیٰ نہ صر ف آقا ہے او ر ہم خادم بلکہ وہ مالک ہے اور ہم غلام۔ پھر وہ خالق ہے اور ہم مخلوق۔ تو جبکہ خادم اور آقا کا تعلق بھی ایسا نازک ہوتاہے کہ خادم کو کبھی یہ امید نہیں ہو سکتی کہ میرا آقا میری ہر ایک بات کو ضرور ہی مان لے گا تو ایک انسان کس طرح خیال کر سکتاہے کہ اس کی ہرایک بات خدا تعالیٰ کوقبول کر لینی چاہئے ۔ اگر کوئی خادم یہ دعویٰ کرتاہے کہ اس کی ہرایک بات اس کا آقا مان لیتاہے تو اس کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے ۔خادم کو ہمیشہ خدمت کے مقام پرکھڑارہنا چاہئے اور اپنے رویہ طریق اور خیالات کو اسی حد میں محدود رکھنا چاہئے جو اس کی خادمیت کے مناسب ہے، نہ کہ آقا بننا چاہئے ۔
خدا تعالیٰ ہر دعا قبول کرنے کے لئے مجبور نہیں ہے
پس کسی کا یہ امید کرنا یا ایسا خیال کرنا کہ اگر میری تمام دعائیں خدا قبول کرے اور کسی کو ردّ نہ کرے تب خدا ،خدا ہو سکتاہے ورنہ نہیں اس طرح کی بات ہے کہ گویا نعوذباللہ وہ انسان خدا ہے اور خدا اس کا بندہ۔ یہ آقا ہے اور وہ خادم۔ یہ مالک ہے اور و ہ غلام۔ کیونکہ جوکسی کی ہر ایک بات ماننے کے لئے مجبور ہو تاہے وہ بندہ اور غلام ہوتاہے نہ کہ منوانے والا خادم اور غلام۔ تو یہ امید کرنا ہی باطل ہے کہ میری تمام کی تمام دعائیں قبول ہو جانی چاہئیں۔ یہ خیال کوئی جاہل سے جاہل اور نادان سے نادان انسان تو کرے ورنہ دانا نہیں کر سکتا۔ گو آج کل کے مسلمانوں میں سے بعض اسی قسم کے خیالات رکھتے ہیں ۔ بعض لوگ جو مجھے دعا کے لئے لکھتے ہیں انہیں جواب دیاجاتا ہے کہ انشاء اللہ دعا کی جائے گی ۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ ابھی تک کام نہیں ہوا ، معلوم ہوتاہے آپ نے دعا نہیں کی،اب آپ ضرور دعا کریں۔ ہم لکھتے ہیں ہمارا کام دعا کرنا ہے و ہ کرتے ہیں۔ آگے کام کرنا خدا کے اختیار میں ہے اس میں ہمارا کوئی دخل نہیں۔ اس کے جواب میں لکھتے ہیں کہ آپ نے یہ کیالکھ دیا۔ آپ تو جو چاہیں خدا سے منوا سکتے ہیں ۔ پس ہمارا یہ کام بھی کروا دیجئے۔ تواس قسم کے خیالات ہیں آج کل کے مسلمانوں کے جو اس جہالت کانتیجہ ہیں جو ان میں پھیلی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کسی کے بزرگ ہونے کے یہ معنی سمجھ رکھے ہیں کہ وہ نعوذباللہ خدا سے بھی بزرگ ہے، جو چاہے کروا سکتاہے۔ حالانکہ بزرگ کے اصل معنے یہ نہیں کہ وہ لوگوں میں سے بزرگ ہے جیسے کہتے ہیں کہ باپ کابزرگ بیٹا یعنی سب سے بڑابیٹا۔ اس کے یہ معنی نہیں ہواکرتے کہ وہ اپنے باپ سے بھی بزرگ ہے۔ بلکہ یہ کہ دوسرے بھائیوں سے بزرگ ہے۔ اسی طرح خدا کے بزرگ کے یہی معنے ہیں کہ اس کی مخلوق سے بزرگ ہے اور خدا اَوروں کی نسبت اس کی دعائیں زیادہ قبول کرتاہے جیسے گورنمنٹ کے اعلیٰ حکام ہوتے ہیں ان کی باتیں دوسروں کی نسبت بہت زیادہ مانی جاتی ہیں۔ مگر یہ نہیں ہوتا کہ گورنمنٹ ان کی سب کی باتیں مان لے۔ تویہ ایک باطل عقیدہ ہے جو پھیلاہواہے کہ خدا کو سب دعائیں قبول کرنی چاہئیں۔
پچھلے جمعہ کے خطبہ میں جومیں نے یہ کہا تھاکہ ایسے طریق بتاؤں گا جن سے دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اس سے شاید کسی کے دل میں یہ بات آئی ہو کہ اگلے جمعہ میں کوئی ایسی ترکیب بتا دی جائے گی جس سے جو چاہیں گے خدا تعالیٰ سے منوا لیں گے اور اب یہ سن کر کہ خدا تعالیٰ ہر ایک دعا قبول کرنے کے لئے مجبور نہیں ہے اور نہ ہی کسی عقل مند کو یہ خیال کرنا چاہئے کہ ا س کی تمام دعائیں قبول ہو جائیں گی۔ کوئی کہہ دے کہ پہاڑ کھودنے سے چوہا ہی نکلاہے یعنی جب کسی بڑی چیز کی امید ہو اور بہت چھوٹی چیزحاصل ہو تویہی کہا جاتاہے ۔ پس اگر کسی نے یہ خیال کیا تھا کہ اگلے جمعہ میں کوئی ایسا طریق بتا دیا جائے گا جس سے جو بات چاہیں گے خدا سے قبول کروا لیں گے تو وہ اپنے دل سے اس کو نکال دے کیونکہ یہ کفرہے او ر یہ بات نہ میرے ذہن میں آئی اور نہ ہی کسی ایسے انسان کے ذہن میں آ سکتی ہے جو خدا تعالیٰ کی عظمت ، جلال اور قدرت سے واقف ہے۔ میرا مدّعا تو یہ تھا کہ ایساطریق بتایا جائے جس سے نسبتاً خدا تعالیٰ زیادہ دعائیں قبول فرما لے۔ یہ ہرگز نہیں تھا کہ میں کوئی ایسا گُر جانتاہوں یابتا سکتاہوں یا یہ کہ میرا عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے انسان جو چاہے منوا سکتاہے۔
