اپنے نفس کی کمزوریوں کا مطالعہ کریں
پھر ایک یہ بھی طریق ہے کہ جب کوئی انسان کسی معاملہ کے متعلق دعا کرنے لگے تو پہلے اپنے نفس کی کمزوریوں کا مطالعہ کرے اور اتنا مطالعہ کرے ، اتنا کرے کہ گویا اس کا نفس مر ہی جائے اور اسے اپنے نفس سے گھِن آنی شروع ہو جائے اور نفس کہہ اٹھے کہ تو بغیر کسی بالا دست ہستی کی مدد اور تائید کے خود کسی کام کا نہیں ہے اورکچھ نہیں کر سکتا ۔ جب نفس کی یہ حالت ہو جائے تو دعا کی جائے ایسی حالت میں جس طرح ایک بے دست و پا بچہ کی ماں باپ خبر گیری کرتے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ بھی اپنے بندے کی کرتاہے۔ ماں باپ کو دیکھو جب بچہ بڑا ہو جاتا ہے تواسے کہتے ہیں خود کھاؤ پیو۔ مگر دودھ پیتے بچے کی ہر ایک ضرورت اوراحتیاج کا انہیں خود خیال اور فکر ہوتاہے۔ خدا تعالیٰ کے حضور بھی انسان کو اپنے نفس کو اسی طرح ڈال دینا چاہئے جس طرح دودھ پیتابچہ ماں باپ کے آگے ہوتاہے۔ لیکن اگر نفس فرعون ہو اور اپنے آپ کو بڑاسمجھتا ہو تو اس کی کوئی بات قبول نہیں ہو سکتی ۔ اس لئے سب سے پہلے انسان کو چاہئے کہ اپنے نفس کو بالکل گرادے یہ بندے اور خدا میں تعلق پیدا ہونے کا بہت بڑا ذریعہ ہے اوراس سے دعا بہت زیادہ قبول ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے انعامات پر نظر کریں
ایک یہ بھی طریق ہے کہ جب انسان دعا کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ کے انعاما ت کو اپنی آنکھوں کے سامنے لے آئے کیونکہ انسان کو خواہش اور امید کام کروایا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات کے دیکھنے کے لئے سر سے پاؤں تک خوب غور کرے اور دیکھے کہ اگر میری فلاں چیز نہ ہوتی تو مجھے کس قدر تکلیف اور نقصان ہوتا ۔مثلاً اس طرح نقشہ کھینچے کہ اگر میرے ہاتھ نہ ہوتے اورکوئی دوست مصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھاتا تو میں کیا کرتا۔ یا پیاس لگی ہوتی تو پانی کس طر ح پی سکتا۔ پیشاب کرناہوتا توازار بند کس طرح کھولتا اور پھر باندھ سکتا۔ غرضیکہ اسی طرح ہر ایک چیزکو دیکھے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کے انعام او ر فضل کا ایسانقشہ کھینچے کہ اس کا رُواں رُواں خدا کی محبت اور الفت سے پر ہو جائے۔ اس وقت اس کے دل پر جوش اور شوق سے امید ایک ایسی لہر مارے گی کہ وہ جو دعا کرے گا وہ قبول ہو جائے گی۔ کیونکہ جب وہ دیکھے گا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے بغیر مانگے اور سوال کئے اس قدرانعامات دے رکھے ہیں تو مانگنے سے کیوں نہ دے گا۔ جب اس کو یہ یقین ہو جائے تو جو مانگے گا وہ مل جائے گا۔
اللہ کے غضب سے ڈریں
ایک طریق یہ بھی ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ کے انعامات کو نظر کے سامنے لانا چاہئے اسی طرح اس کے غضب کو سامنے لایا جائے۔ اور جس طرح یہ سوچا تھا کہ اگرمیرافلاں عضو نہ ہوتا تو کیاہوتا۔ اسی طرح یہ سوچے کہ یہ انعام جو مجھے دئے گئے ہیں یہ چھین لئے جائیں تو پھر کیا ہو؟۔ اور یہ بھی دیکھے کہ بہت سے لوگ تھے جن پر میری طرح ہی خدا تعالیٰ کے انعام تھے مگران سے چھین لئے گئے۔ اس بات کے لئے تباہ شدہ گھر اورہلاک شدہ بستیاں یا اپنے جسم کا ہی کوئی تباہ شدہ حصہ کافی سبق دے سکتاہے۔ وہ اسے دیکھے اور پھر دعا کرے۔ یہ دعا خوف اور طمع کی دعا ہوگی جس کو قرآن کریم نے بھی بیان کیاہے ۔ ایک طرف اس کے خوف ہوگا اور دوسری طرف طمع۔ یہ دو دیواریں ہونگی جو اسے دنیا سے کاٹ کر اللہ کی طرف مائل کر دیں گی اور اس طرح اس کی دعا قبول ہو جاتی ہے۔
