In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » عبادات » PDF ڈاؤن لوڈ کریں PDF ڈاؤن لوڈ کریں

قبولیت دعا کے طریق

(سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)
+ فہرست مضامین

خدا تعالیٰ بندہ کے یقین پردعا قبول کرتاہے

دوسرا گرُبھی اسی آیت میں ہے اور وہ یہ کہ فرمایا وَلیُومِنُوْا بِی۔ اگرمیرے بندے دعا قبول کروانا چاہتے ہیں تو اس کا دوسرا طریق یہ ہے کہ مجھ پر ایمان بھی لائیں۔ بظاہر معلوم ہوتاہے کہ یہ زائد الفاظ ہیں کیونکہ جوشخص اللہ تعالیٰ کی تمام باتیں مانے گا ضرور ہے کہ وہ ایمان بھی لائے گا اورجو ایمان نہیں لائے گا وہ مانے گا بھی نہیں۔ مثلاً جو نماز پڑھے گا ، روزے رکھے گا، زکوٰۃ دے گا، حج کرے گا وہ یونہی نہیں کریگا اور نہ ہی رسمی طورپر ۔ کیونکہ رسمی طور پر کرنے کی خدا تعالیٰ نے پہلے ہی نفی فرما دی ہے ۔کیونکہ پہلے یہ نہیں فرمایا کہ اگرتم شریعت کے حکموں پرعمل کرو گے تو میں تمہاری دعا قبول کروں گا ۔ بلکہ لفظ ہی ایسارکھا ہے جوشریعت پرعمل کرنا بھی ظاہرکر دیتاہے اور رسم کے طور پر عمل کرنے کارد بھی کر دیتاہے۔ یعنی استجابت۔ اس کے معنے ہیں کہ ایک طرف سے آواز آئے اور دوسرا اس کو قبول کرکے اس پرعمل کرے۔ نہ یہ کہ کسی کے اپنے نفس میں رحم اور سخاوت ہے تو وہ بھی اس کامصداق ہوسکے اور نہ ہی رسمی یاعاد ت کے طور پر کوئی کام کرنااس میں داخل ہو سکتاہے کیونکہ خداتعالیٰ نے فرمایا کہ جو میری آواز سنے اور اس پرعمل کرے اس کی دعا قبول ہوگی۔ اس طرح ایک ناقص ایمان والا شخص جو رسمی طورپر شریعت کے احکام پرعمل کرتاہے ۔ یاایک دہریہ جو یونہی لوگوں کے ڈر سے نماز پڑھ لیتاہے داخل نہیں ہو سکتا ۔پھر سوال ہوتاہے کہ وَلیُومِنُوابِی کے فرمانے کا کیا مطلب ہوا۔ جب پہلے سے ہی یہ شرط موجود ہے کہ دعااس وقت قبول ہوتی ہے جبکہ استجابت ہو ۔ اور استجابت اس وقت ہوتی ہے جب ایما ن باللہ ہو۔ تو پھر ایمان لانے کے کیامعنی۔ استجابت جب ایمان لانے کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی تو پہلے ایمان ہونا چاہئے اور بعد میں استجابت۔ نہ کہ پہلے استجابت اور بعد میں ایمان۔ ا س صورت میں ایک ظاہر بین کو اختلاف نظر آتاہے لیکن یہ بات غلط ہے۔

یہاں خدا تعالیٰ پرایمان لانے سے اس کی شریعت پر ایمان لانامراد نہیں ہے بلکہ دعاکے قبول ہونے کا ایک اورگر بتایاہے جس کے نہ سمجھنے سے بہت سے لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے اور ان کی دعائیں ردّ کی گئی ہیں۔ وہ گر یہ ہے کہ انسان شریعت کے تمام احکام پر عمل کرے اور دعائیں مانگے مگر ساتھ ہی اس بات پرایمان بھی رکھے کہ خدا تعالیٰ دعائیں قبول کرتاہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ شریعت کے احکام پر بڑی پابندی سے عمل کرتے ہیں ۔ ان کے دلوں میں خشیت اللہ بھی ہوتی ہے۔ بڑے خشوع و خضوع سے دعائیں بھی کرتے ہیں مگر پھر یہ کہتے ہیں کہ فلاں اتنا بڑا کام ہے اس کے متعلق دعاکہاں سنی جا سکتی ہے یا یہ کہتے ہیں کہ ہم گنہگار ہیں ہماری دعا خدا کہاں سنتاہے ۔ اس قسم کا کوئی نہ کوئی خیال شیطان ان کے دل میں ڈا ل دیتاہے جس سے ان کی دعا میں قبولیت نہیں رہتی۔ اس نقص سے بچنے کے لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تم اس بات پر بھی ایمان رکھو کہ جب تم ہمارے احکام پر اچھی طرح چلو گے تو میں تمہاری دعائیں قبول کر لوں گا۔ جب یہ یقین ہو توپھر دعا قبول ہوتی ہے ۔ لیکن اگر کوئی زبان سے دعا تو کرتاہے لیکن اسے یقین نہیں کہ خدا اس کی دعاکو قبول کرے گا تو کبھی اس کی دعا قبول نہ ہو سکے گی کیونکہ خدا تعالیٰ بندہ کے یقین پر دعا قبول کرتاہے ۔ اگر کسی کو یقین ہی نہ ہو تو لاکھ ماتھا رگڑے کیونکہ جس کو خدا پر امید نہیں ہوتی اس کی دعا وہ نہیں سنتا۔

فرماتاہے لاَ تَایئَسُوْا مِنْ رَّٖوْحِ اللّٰہِ (یوسف:۸۸) اللہ کی رحمت سے کبھی ناامید نہ ہو ۔اللہ کی رحمت سے کوئی ناشکرا انسان ہی ناامید ہوتاہے ورنہ جس نے اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے اس قدر نشان دیکھے ہوں جن کو وہ گن بھی نہیں سکتا وہ ایک منٹ کے لئے بھی یہ خیال نہیں کر سکتا کہ میرا فلاں کام خدا نہیں کرے گا اور فلاں دعا قبول نہیں ہوگی۔ خواہ اس کی کیسی ہی خطرناک حالت ہو اور کیسی ہی مشکلات اور مصائب میں گھراہواہو پھر بھی وہ یہی سمجھتااوریقین رکھتاہے کہ خدا تعالیٰ کے ایک ادنیٰ سے ادنیٰ اشارہ سے بھی یہ سب کچھ دور ہو سکتاہے اور خدا ضرور دورکرے گا۔ اور اگر اسے دعا کرتے کرتے بیس سال بھی گزر جائیں توبھی یہی یقین رکھتاہے کہ میری دعا ضائع نہیں جائے گی ۔ اوراس وقت تک دعاکرنے سے باز نہیں رہتا جب تک کہ خدا تعالیٰ ہی منع نہ کردے کہ اب یہ دعا مت کرو۔ گو اس کی دعا قبول نہ ہو لیکن آخر کار خدا تعالیٰ کے کلام کا شرف تو حاصل ہو گیا کہ خدا نے فرمادیا کہ اب دعا نہ مانگو ۔ تو جب تک خدا تعالیٰ نہ کہے اس وقت تک دعا کرنے سے نہیں رکنا چاہئے۔

صفحہ نمبر: 4 (کل صفحات: 14)