دیباچہ
”بچو! گھر خالی دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ابا تمہارے لیے کچھ نہیں چھوڑ گئے۔ انہوں نے آسمان پر تمہارے لیے دعاؤں کا بڑا بھاری خزانہ چھوڑا ہے جو تمہیں وقت پر ملتا رہے گا۔“
یہ فقرات حضرت اماں جان نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی وفات کے موقع پر اپنے بچوں سے مخاطب ہوکر فرمائے۔ یہ فقرات جہاں آپ کے خدا تعالیٰ پر کامل توکل کی آئینہ داری کرتے ہیں۔ وہاں اپنے شوہر کے مقام و مرتبہ پر پختہ یقین کا عنوان بھی ہیں۔
آپ جامع خوبیوں کی مالک تھیں۔ انتہائی نیک، تقویٰ شعار، دعا گواور اعلیٰ اخلاق آپ کاطرۂ امتیازتھا۔ آپ کی سیرت صرف ہماری خواتین کے لیے ہی نہیں بلکہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے لیے بھی اسوہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم خود اس پر عمل کرنے والے بنیں اور اپنے بچوں اور بچیوں میں بھی اس کو منتقل کرنے والے ہوں۔ آمین
خاکسار
فرید احمد نوید
صدرمجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
پیش لفظ
حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زوجۂ محترمہ جو ایک مبارک نسل کی ماں بنیں۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام و مرتبہ کی بدولت آپؑ کے تمام ماننے والوں کی ماں کہلائیں۔ حضرت اماں جان کی سیرت و سوانح پر مشتمل یہ کتاب صاحبزادی امۃ الشکور صاحبہ بنت حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے تصنیف فرمائی۔ اس کتاب کی اہمیت اس پہلو سے مزید بڑھ جاتی ہے کہ اس کے ابتدائی مسودہ کے بعض حصوں کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ اور حضرت سیّدہ منصورہ بیگم صاحبہ نے بھی ملاحظہ فرمایا۔
محترم محمود احمد صاحب شاہد صدر مجلس خدام الاحمدیہ کی نگرانی میں یہ کتاب جنوری 1989ء میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد 2001ء میں شائع ہوئی اور اب خلافت احمدیہ صدسالہ جوبلی کے موقع پرشائع ہورہی ہے۔
اس کتاب کی اشاعت کے سلسلہ میں خاکسار مکرم عبدالحق صاحب، سہیل احمدثاقب صاحب، مکرم فراست احمدراشدصاحب اور مکرم انصراحمداشرف صاحب کے تعاون کا بے حد ممنون ہے۔ جزاھم اللّٰہ احسن الجزاء
خاکسار
اسفندیارمنیب
مہتمم اشاعت
مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان
