In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » اخلاقیات »

اسلام اور احترامِ میت

+ فہرست مضامین

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نعش مبارک کی بے حرمتی

نعشوں اور قبور کی بے حرمتی کا سلسلہ قدیم سے جاری ہے۔ لیکن اس قسم کی وحشت اور بربریت کا پہلا واقعہ جو تاریخ نے محفوظ کیا ہے وہ شہید مظلوم حضرت عثمانؓ کی نعش کی بے حرمتی کا ہے جو جاہل اور غصے سے بے قابو ہونے والے مصر اور دوسرے علاقوں کے جتھوں میں شامل نو مسلموں کی طرف سے وقوع پذیر ہوئی۔ روایات میں آتا ہے

’’نبذ عثمان رضی اللہ عنہ ثلاثۃ أیام لا یدفن؛ ثم ان حکم بن حزام القرشی ثم أحد بنی أسد بن عبدالعزی، و جبیر بن مطعم بن عدی بن نوفل بن عبد مناف، کلما علیاً فی دفنہ، وطلبا الیہ أن یأذن لأھلہ فی ذالک، ففعل، و أذن لھم علی، فلما سمع بذلک قعدوا لہ فی الطریق بالحجارۃ، و خرج بہ ناس یسیر من أھلہ؛ و ھم یریدون بہ حائطاً بالمدینۃ، یقال لہ: حش کوکب، کانت الیھود تدفن فیہ موتاھم؛ فلما خرج بہ علی الناس رجموا سریرہ، و ھموا بطرحہ، فبلغ ذالک علیا، فأرسل الیھم یعزم علیھم لیکفن عنہ، ففعلوا، فانطلق حتی دفن رضی اللہ عنہ فی حش کوکب؛ فلما ظھر معاویۃ بن أبی سفیان علی الناس أمر بہدم ذالک الحائط حتی أفضی بہ الی البقیع؛ فأمر الناس أن یدفنوا موتاھم حول قبرہ حتی اتصل ذالک بمقابر المسلمین‘‘۔(تاریخ الامم والملوک للطبری، الجزء الثانی صفحہ ۶۸۷، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو تین دن تک شرپسندوں نے دفن کرنے میں رکاوٹ ڈالی۔ آخر تین دن کے بعد مدینہ کے کچھ با اثر لوگوں نے جن میں حضرت حکیم بن حزامؓ اور حضرت جبیر بن مطعمؓ بھی تھے، حضرت علیؓ سے حضرت عثمانؓ کے دفنانے کے بارے میں بات چیت کی اور یہ بھی درخواست کی کہ آپ اپنے خاندان کے لوگوں کو بھی اس میں مدد کے لئے کہیں۔ جب شرپسندوں کو اس بات کا علم ہوا تو وہ راستہ میں پتھر لے کر بیٹھ گئے اور جنازہ گزرنے پر اس پر پتھراؤ کیا۔ مدینہ میں ایک احاطہ تھا جس کا نام حش کوکب تھا اور یہودی اس میں دفن ہوتے تھے۔ چونکہ جنت البقیع میں شرپسند حضرت عثمانؓ کے جسد مبارک کو دفن نہیں ہونے دیتے تھے اس لئے آپ کی نعش کو حش کوکب میں دفنانے کا پروگرام بنایا گیا۔ اور رات کے وقت آپ کی تدفین کی گئی۔ یہ احاطہ جنت البقیع سے کچھ فاصلے پر تھا۔ جب امیر معاویہ خلیفہ بنے تو انہوں نے احاطہ کی دیوار گرانے کا حکم دیا اور لوگوں کو تلقین کی کہ وہ اپنے مردوں کو اس خالی جگہ میں دفن کریں تاکہ یہ جگہ مسلمانوں کے قبرستان یعنی جنت البقیع میں شامل ہو جائے۔

نعشوں کی بے حرمتی کے دیگر واقعات

اس کے بعد شہید مظلوم حضرت امام حسینؓ کی نعش مبارک کی بے حرمتی کا واقعہ آتا ہے۔ ان کا سرِ مبارک کاٹ کر یزید کے دربار میں پیش کیا گیا اور باقی جسم مبارک کربلا میں ہی رہا۔

حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی تدفین قسطنطنیہ کی فصیل کے قریب ہوئی۔ عیسائیوں نے آپؓ کے مزار کی بے حرمتی کا ارادہ کیا تو بنو امیہ کے خلیفہ نے ان کو دھمکی دی کہ اگر تم نے ہمارے صحابیؓ کی قبر کی بے حرمتی کی تو ہم اس کا سختی سے انتقام لیں گے۔ اس ڈر سے وہ اس کام سے رک گئے۔(أسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ۔ ابن الأثیر۔ المجلد الخامس صفحہ۱۴۳۔ دار احیاء التراث العربی بیروت لبنان)

پھر جب عباسی دور آیا تو عباسیوں کے پہلے خلیفہ ابوالعباس سفاح نے اموی خلفاء کی قبروں کو اکھیڑا اور ان کی نعشوں کی بے حرمتی کی۔ ہشام بن عبدالملک جس کی نعش صحیح و سالم تھی اس کو نکلوایا۔ پہلے اس کو کوڑے لگوائے پھر سولی پر لٹکایا پھر اس کو جلادیا۔(الکامل فی التاریخ، ابن اثیر، المجلد الخامس۔ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان)

اقتدار کے نشے میں یہ سب کچھ کیا گیا مگر علمائے اسلام نے کبھی بھی ایسی حرکات کو پسند نہیں کیا اور واشگاف الفاظ میں ان کی مذمت کی۔ قبروں اور مردوں کی بے حرمتی میں اخلاقی گراوٹ دراصل غیر اسلامی روایات ہیں جو بدقسمتی سے انحطاط کے دور کے بعض بگڑے ہوئے مسلمانوں میں بھی راہ پا گئیں ورنہ درحقیقت اس بربریت کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں۔

سپین میں عیسائیوں نے غلبہ پانے کے بعد مسلمانوں کے قبرستانوں کی سخت بے حرمتی کی۔ اسی طرح یہودیوں کے قبرستانوں کو بھی نہ بخشا گیا۔

تاریخی واقعہ ہے کہ بعض عناصر نے سازش کرتے ہوئے یہ کوشش کی کہ حضور ﷺ کے مزار مبارک کی بے حرمتی کی جائے لیکن اس زمانہ کے مشہور مسلمان بادشاہ نورالدین زنگی کو خواب میں بتایا گیا کہ کچھ بدبخت حضورﷺ کے مزار مبارک کی بے حرمتی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اس عادل بادشاہ نے مدینہ میں آکر خواب کی تعبیر کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ دو عیسائی روضۂ مبارک سے کچھ فاصلے پر رہائش پذیر ہیں اور وہ سرنگ لگاکر حضورﷺ کے جسد مبارک کی بے حرمتی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان عیسائیوں کو حسب جرم سزا دی گئی اور پھر حضورﷺ کے مزار مبارک کے اردگرد تانبا اور سیسہ پگھلا کر ایسا پختہ انتظام کر دیا گیا کہ آئندہ کوئی بدبخت آپؐ کے مزار مبارک تک نہ پہنچ سکے۔ (وفاء الوفا بأخبار دارالمصطفیؐ۔ تالیف نورالدین علی الشافعی السمہودی۔ الجزء الاول صفحہ۴۶۶۔ بمطبعۃ الآداب والمؤید بمصر سنۃ ۱۳۲۶ ھجریۃ)

مشہور سکھ لیڈر بندہ بیراگی نے سرہند شریف کے قبرستانوں کی بے حرمتی کی ، قبریں کھول کر نعشیں نکالیں ان سے وحشیانہ سلوک کیا اور ہڈیوں کو نذر آتش کردیا۔ (سکھ مسلم تاریخ حقیقت کے آئینے میں صفحہ۱۵۷۔ از ابوالامان امرتسری)

انگریزوں کا جب سوڈان پر تسلط ہوا تو انہوں نے مہدی سوڈانی کی نعش کو قبر سے نکالا، اس کے ٹکڑے ٹکڑے کئے اور دریا میں بہا دیا اس طرح دوسرے مسلمانوں کی نعشوں کی بھی بے حرمتی کی۔(آئمہ تلبیس یا غارتگرانِ ایمان مؤلفہ ابوالقاسم رفیق ذلاوری صفحہ۴۵۳۔ مطبعہ گیلانی الیکٹرک پریس لاہور۔ جنوری ۱۹۳۷ء)

انگریزوں نے جب ہندوستان پر قبضہ کیا تو لاہور میں مسلمانوں کے کئی مقبروں کو نیلام کرادیا جنہیں گرا کر لوگوں نے مکانوں اور کوٹھیوں میں تبدیل کردیا۔ کہا جاتا ہے کہ جو علاقے آج کل گوالمنڈی ، ہال روڈ اور انارکلی کہلاتے ہیں یہ کسی زمانہ میں قبرستان تھے اور پھر ان کو ہموار کرکے یہاں آبادی بسائی گئی۔

غرضیکہ ایک طرف وہ اخلاق ہیں جو اسلام سکھاتا ہے۔ حضورؐ کے ارشادات ہیں جن میں نرمی، رواداری، ہمدردی، احترام انسانیت اور احترام میت کے سبق دیئے گئے ہیں۔ دوسری طرف غضب سے مغلوب جاہلیت کے پرستار اور مذہب و اخلاق سے نابلد بے حوصلہ افراد اور گروہ ہیں جن کی وحشت اور بربریت سے انسان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔

آنحضورﷺ کی تعلیم تو سراسر رفق اور نرمی و تلطف پر مبنی تھی۔ آپؐ نے فرمایا

’’ان اللہ رفیق یحب الرفق و یعطی علی الرفق ما لا یعطی علی العنف و ما لا یعطی علی ما سواہ‘‘(مسلم کتاب البر و الصلہ باب نہی من ضرب الوجہ)

اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے۔ نرمی کو پسند کرتا ہے۔ نرمی کا جتنا اجر دیتا ہے اتنا سخت گیری کا نہیں دیتا۔ بلکہ کسی اور نیکی کا بھی اتنا اجر نہیں دیتا۔

غرض اسلام کی ایسی حسین تعلیم کو بھلا کر جو لوگ خود اپنے لئے ذلت و خواری کا طریق اختیار کرتے ہیں کاش وہ سمجھیں کہ ہمارے پاک و مطہر رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ان کو کیا تعلیم دی تھی اور آپؐ کا اسوہ حسنہ کیا تھا۔

واللہ یھدی من یشآء الیٰ صراطٍ مستقیمٍ

*

(الفضل انٹرنیشنل ۱۸۔ اپریل ۱۹۹۷ء تا ۲۴۔ اپریل ۱۹۹۷ء)

اگلا صفحہ
صفحہ نمبر: 3 (کل صفحات: 3)