|
|
|
|
غزل
تو مری روح میں سمایا ہے ، دل پہ ہر دم نزول ہے تیرا
|  |
|
غزل
جب تری انتہا نہیں کوئی، آسمانوں کی شرط کیسی ہے
|  |
|
غزل
وہ ارتقاء سے گزرتا ہوا نظر آیا، خدا زمیں پر اترتا ہوا نظر آیا
|  |
|
غزل
روح و بدن کا رشتہ بھی باہم نہیں رہا
|  |
|
غزل
سیاہ رات میں سورج ابھرنے والے ہیں، دلوں کے جام دعاؤں سے بھرنے والے ہیں
|  |
|
|
|
غزل
وہ اگر مہربان ہوجائیں ۔ دو بدن ایک جان ہوجائیں
|  |
|
غزل
اب ہر اک درد کا ہم عشق میں پاتے ہیں علاج ، ہم کبھی عشق میں بیمار ہوا کرتے تھے
|  |
|