سیدنا حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ازراہ شفقت جماعت احمدیہ جرمنی کی درخواست کو قبول فرماتے ہوئے ۱۲ مئی تا ۲۴ مئی جرمنی کا دورہ فرمایا۔ حضوررحمہ اللہ ۱۲؍مئی کو صبح آٹھ بجے مسجد فضل لندن سے روانہ ہوکر شام سات بجے مسجد نور فرینکفرٹ میں ورود فرما ہوئے جہاں متعدد احباب اپنے پیارے امام کے استقبال کی سعادت حاصل کرنے کے لئے چشم براہ تھے۔
اطفال الاحمدیہ کے ساتھ مجلس سوال وجواب (۱۵مئی ۱۹۹۹ء بروز ہفتہ)
۱۵مئی بروز ہفتہ سیدنا حضرت امیرالمومنین رحمہ اللہ تعالیٰ صبح دس بجے مسجد نور فرینکفرٹ سے خدام الاحمدیہ کے مقام اجتماع باد کروئزناخ کے لئے روانہ ہوئے جہاں گیارہ بج کر دس منٹ پر اطفال الاحمدیہ کے ساتھ ایک مجلس سوال و جواب منعقد ہوئی جس میں متعدد بچوں نے حضور انور سے مختلف سوالات کئے۔ چند ایک اہم سوالات مع جوابات خلاصۃً اپنی ذمہ داری پر ہدیۂ قارئین ہیں۔
* ایک بچے نے سوال کیا کہ اصلی بائبل کہاں ہے؟
حضور انور نے فرمایا کہ عیسائیوں نے بائبل کو بدل ڈالا ہے تو اصل بائبل پھر کہاں سے ملے گی۔ اصل بائبل کا سراغ لگانا ہو تو اس کا صرف ایک طریق ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم نے بائبل کے صرف وہی حصے بیان کئے ہیں جو تبدیل نہیں ہوئے۔ اس سے باہر تو اختلافات کا ایک جھگڑا ہے۔ قرآن کریم نے بائبل کا جو ورشن(Version) پیش کیا ہے وہ ایک دوسرے سے سو فیصدی متفق ہے۔
* ایک طفل نے کہا کہ غیراحمدی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ ہم کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ فوت ہوچکے ہیں؟
حضور رحمہ اللہ نے اس سوال پر صدر صاحب خدام الاحمدیہ کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے فرمایا کہ آپ نے بچوں کو ابھی تک یہ بھی نہیں بتایا۔ حضرت مسیح موعودؑ کی کتب میں اس کا بکثرت ذکر موجود ہے۔ پھر میری مجالس سوال و جواب ہوتی ہیں۔ یہ سوال ایسا ہے جو بارہا آ چکا ہے اور اس کا میں مختلف پہلوؤں سے بائبل سے، قرآن مجید سے اور عقل و دانش کے حوالہ سے جواب دے چکا ہوں۔ یہ صدر صاحب کی ذمہ داری ہے اور وہ اس کے لئے جوابدہ ہیں کہ وہ بچوں کو ان باتوں سے آگاہ کریں ا ور ان کے ذہن نشین کرائیں۔
* سوال کیا گیا کہ ہمارے سکول میں ہر سال پوری کلاس سیر کے لئے جاتی ہے، کیا ہم اس میں جا سکتے ہیں؟۔
حضور انور نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اس میں احمدی بچوں کے لئے صرف ایک خطرہ ہوگا کہ وہ بچوں کو غیراسلامی ماحول میں چلائیں تو بعض دفعہ ان کی گندی روایات بھی بیچ میں شامل ہو جاتی ہیں۔ اس لئے میں احتیاط کا کہا کرتا ہوں۔ علاوہ ازیں ایک سکول میں کئی احمدی بچے ہوں تو ان کا حفاظتی پروگرام یہ ہے کہ وہ سارے اکٹھے رہیں اور اس کے نتیجہ میں انہیں خدا کے فضل سے غیروں سے دفاع کا ایک ذریعہ مل جاتا ہے۔
* ناروے میں جہاں چھ مہینے دن رہتا ہے تو وہاں لوگ نماز کس طرح پڑھتے ہیں؟
حضوررحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے اس کا بارہا جواب دیا ہے۔ حضرت رسول اللہ ﷺ نے پہلے ہی اس کا حل بیان فرما دیا ہے اور یہ بھی اسلام کی صداقت کی عظیم دلیل ہے۔ جس زمانہ میں عرب میں یہ گمان بھی نہیں تھا کہ دن رات چوبیس گھنٹے کے علاوہ بھی ہو سکتا ہے حضور اکرم ﷺ کو یہ خبر دی گئی کہ دجال کے زمانہ میں چھ مہینے کا دن اور چھ مہینے کی رات ہو جائے گی۔ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ساری زمین پر ایسا ہوگا بلکہ یہ مراد تھی کہ اس زمانہ میں لوگوں کے علم میں یہ بات آ جائے گی کہ زمین کے انتہائی شمال میں ایک رات چھ مہینے کی اور ایک دن چھ مہینے کا چڑھتا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایسا ہوگا تو صحابہ میں سے کسی نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! ہم پر ایک دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں تو کیا ایسے وقت میں ہم چھ مہینے میں صرف پانچ نمازیں پڑھیں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں تمہارا جو معمول کا دن ہے چوبیس گھنٹے کا اس کے مطابق خدا تعالیٰ نے پانچ نمازیں اور تہجد تجویز فرمائی ہیں۔ اسی طرح ہر چوبیس گھنٹے میں اس لمبے دن اور رات میں بھی تمہارا معمول ہونا چاہئے۔ چنانچہ اسی حل پر ہم عملدرآمد کرتے ہیں۔
* ایک طفل نے پوچھا کہ اگر کوئی غیراحمدی کسی غیراحمدی کو احمدی سمجھ کر مار دے تو کیا وہ شھید سمجھا جائے گا؟
حضوررحمہ اللہ نے فرمایا کہ آپ کو یہ بڑا پیچیدہ سوال سوجھا ہے۔ حضوررحمہ اللہ نے فرمایا کہ جہاں تک اس شخص کی جوابدہی کا تعلق ہے جہاں تک میرا ظاہری علم ہے خدا تعالیٰ اسے شہید شمار نہیں کر سکتا کیونکہ اس کا دین جو تھا وہ وقت کے امام کی تکذیب اور انکار تھا۔ جہاں تک مارنے والے کا تعلق ہے تو اس نے تو جہنّم اپنے لئے مول لے لی جیسا کہ قرآن کریم میں مذکور ہے۔ حضور نے فرمایا یہ ہمارا ظاہری فیصلہ ہے۔ اصل فیصلہ اللہ نے کرنا ہے جو دلوں کا حال جانتا ہے۔ اصل فیصلہ مرنے کے بعد ہوگا۔ ہم صرف اندازہ پیش کر سکتے ہیں مگر اللہ قادر مطلق ہے وہ جو چاہے گا اس کے متعلق فیصلہ کرے گا۔
* ایک بچے نے دریافت کیا کہ حضرت محمدﷺ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کیا لگتے تھے؟
حضوررحمہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت محمدﷺ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے روحانی باپ تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سارا سلسلہ حضرت محمد رسول اللہ کے سلسلہ کی ایک جاری شاخ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ رسول اللہ کا نور از سرِ نو جاری ہوا ہے۔ جیسے رات کے وقت چاند، سورج کی نمائندگی کرتا ہے بالکل اسی طرح مسیح موعودؑ اس دور میں کوئی نئی روشنی نہیں لائے بلکہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی روشنی کو نئے سرے سے پیش کر رہے ہیں۔
* آنحضرت ﷺ کے خلفاء کو خلفاء راشدین کیوں کہتے ہیں؟
حضور نے فرمایا کہ اس کا مطلب ہے کہ وہ اللہ کے فضل سے صحیح راستے پر قائم تھے۔ پہلے چار خلفاء کے متعلق ہم قطعیت سے کہہ سکتے ہیں کہ ان کا وہی رستہ تھا جو رسول اللہ نے بتایا تھا جو قرآن کے عین مطابق تھا۔
* کیا جرمنی میں واقفین نو بچوں کے لئے اپنا سکول قائم ہو سکتا ہے؟
حضور نے فرمایا کہ یہ مشکل ہے۔ کیونکہ الگ سکول قائم کرنے کی صورت میں سب دیگر مضامین بھی شامل کرنے ہوں گے۔ اس کے اخراجات بہت زیادہ ہیں جو ہم afford نہیں کر سکتے۔ حضور نے فرمایا کہ اس لئے عام سکولوں میں داخل ہوں وہاں سے تعلیم حاصل کریں۔ جہاں تک دینی تعلیم کا تعلق ہے تو ان کی دینی تعلیم کو تقویت دینے کے لئے مختلف نظام جاری ہیں اور وقف نو کی طرف سے رسالے بھی بنائے گئے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت جرمنی اگر ان ساری سہولتوں سے استفادہ کرے تو جہاں تک ممکن ہے ہم ان ذمہ داریوں سے احسن طریق پر سبکدوش ہو سکتے ہیں۔
* ایک سوال یہ کیا گیا کہ حج کرنے والوں کے سروں پر ٹوپی کیوں نہیں ہوتی؟
حضوررحمہ اللہ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اس لئے کہ حج پیدائش کا منظر پیش کرتا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ مجھے نہیں علم کہ کوئی بچہ پیدا ہوا ہو اور ٹوپی اس کے سر پر ہو۔ حضور نے فرمایا کہ حج میں ایک نئی روحانی پیدائش کی خوشخبری ہے جس میں انسان اپنے پہلے سارے گند الگ کر دیتا ہے اور خدا کے ہاں نئی پیدائش شروع کرتا ہے۔ یہ وہ تصویر کشی ہے جس کی وجہ سے آپ وہاں سروں پر ٹوپیاں نہیں رکھتے۔
* ایک بچے نے دریافت کیا کہ کیا ہم سوئمنگ پول جا سکتے ہیں؟
حضور نے فرمایا کہ اگر آپ تیرنے کے وقت اسلامی ذمہ داریاں سامنے رکھیں تو ٹھیک ہے مگر کوئی مسلمان ننگے بدن تیر نہیں سکتا۔ اگر کسی جگہ سکول میں لازم ہو کہ آپ نے ننگے بدن تیرنا ہے تو آپ ہرگز وہاں نہ جائیں۔
* اس سوال کے جواب میں کہ رسول کریم ﷺ پر قرآن نازل ہوا تو اسے کیسے اکٹھا کیا گیا اور پوری دنیا میں کس طرح پھیلا؟
حضور انوررحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن کریم کو محفوظ کرنے کی مختلف صورتیں تھیں۔ بعض دفعہ چمڑوں پر لکھا جاتا تھا۔ علاوہ ازیں کاغذ کی ایک قسم دستیاب تھی اس کاغذ پر بھی قرآن لکھا جاتا تھا۔ علاوہ ازیں ساتھ ساتھ حافظ قرآن تیار ہو رہے تھے جو اسے زبانی حفظ کر رہے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ہم پر یہ بہت بڑا احسان ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ ذمہ داری لگادی کہ وہ تمام حفاظ کی گواہیاں لے کر قرا ء ت کے اختلافات کو دور کریں اور مختلف تحریروں کا موازنہ کریں اور پھر ایک قرآن کی شکل جاری کریں اسے مصحف عثمان کہا جاتا ہے۔ چنانچہ آجکل جو ہمارے پاس قرآن کریم ہے یہ مصحف عثمان کے مطابق ہے۔
* جب دو مسلمان ممالک آپس میں جنگ کریں تو کیا مرنے والے شہید ہوں گے؟۔
حضور نے فرمایا کہ دو مسلمان ممالک اگر وہ سچے مسلمان ہوں تو ایک دوسرے پر حملہ کیوں کریں۔ اگر سیاسی اختلافات ہوں تو وہ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق بیٹھ کر بات چیت سے اسے حل کر سکتے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ شہید وہ ہوتے ہیں جو خدا کی راہ میں لڑتے ہوئے مارے جائیں اور ان کا قصور اس کے سوا کوئی نہ ہو کہ وہ محض مسلمان ہونے کی وجہ سے مارے جائیں۔ حضور نے فرمایا کہ جن دو ممالک کی آپ باتیں کر رہے ہیں وہ ایک دوسرے پر صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے تو حملہ نہیں کر رہے۔
* اس سوال کے جواب میں کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد کوئی نبی آ سکتا ہے؟
حضوررحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ زمانہ حضرت محمد رسول اللہ کا زمانہ ہے اور قیامت تک آپ کا زمانہ جاری ہے۔ پس اگر کوئی شخص دعویٰ کرتا ہے کہ میں اس امّت کا نبی ہوں تو اس پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث کے حوالوں سے اپنی سچائی ثابت کرے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق تو قطعیت سے یہ ثابت ہو چکا ہے۔ بعد میں کوئی آئے تو بے شک آئے مگر کب آئے، کس طرح خدا اتارے، یہ خدا کا کام ہے۔ لیکن چونکہ امّت محمدیہ میں آئے گا اس لئے آنے والے کا فرض ہے کہ قرآن و حدیث سے اپنی سچائی ثابت کرے۔
* ایک بچے نے کہا کہ حضور دعا کریں کہ میں مربی بن جاؤں۔
حضوررحمہ اللہ نے اس کے اس فیصلہ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مربی بننے کے لئے اپنی تربیت خود کرو۔ مربیوں کو جو مشکلات پیش آتی ہیں ان پر بھی نظر کرو۔ عزم، دعا اور صبر کے ساتھ کوشش کرو۔ میری دعا بھی آپ کے ساتھ ہے۔
* ایک اور طفل نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی وقف کی ہے حضور کوئی کام بتائیں؟
حضور نے فرمایا کام تو واقفین زندگی کے لئے بے شمار بتا چکا ہوں۔ دراصل غور سے میرے خطبات و خطابات کو سنا کریں۔ ان میں ایک واقف زندگی کے لئے تمام لائحہ عمل موجود ہے۔ احمدیت کا خادم بننا ہے یہ خلاصہ ہے۔ جس طرح بھی بہترین خدمت دین اسلام و احمدیت کی ہو سکے تو کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں۔
* ایک مسلم ملک کی غیرمسلم ملک سے جنگ ہو جائے تو کیا مسلم ملک اس غیرمسلم ملک کی زمین پر قبضہ کر سکتا ہے؟
حضوررحمہ اللہ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اوّل تو کسی مسلم ملک کو جنگ میں پہل کرنی ہی نہیں چاہئے۔ اسے اس کی اجازت ہی نہیں۔ اگر دوسرے نے اس پر حملہ کیا ہے تو ظاہر ہے کہ مسلم ملک کی زمین چھیننے کے لئے حملہ کیا ہے۔ جس طرح وہ اگر مسلم ملک کی زمین چھین لیتے تو اپنی ہی سمجھتے اسی طرح اگر مسلم ملک ان کی کوشش کو ناکام بنادے اور ان کی زمین چھین لے تو یہ ان کی ہی سمجھنی چاہئے۔ لیکن اس زمانہ میں یو۔این۔او کے تابع بڑی قوموں نے کسی ملک کا جو جغرافیہ بنادیا ہے وہ اسے قائم رکھتے ہیں اور یہ اخلاقی قانون نہیں چلتا۔
* ایک بچے نے کہا کہ اللہ سب سے طاقتور ہے تو اسے فرشتے بنانے کی کیا ضرورت ہے؟
حضور نے فرمایا کہ اللہ کی طاقت کے اظہار میں فرشتوں کا پیدا کرنا بھی شامل ہے، انسانوں کا پیدا کرنا بھی شامل ہے، کائنات کا پیدا کرنا بھی شامل ہے،یہ سب اللہ تعالیٰ کی طاقت کے مظہر ہیں۔
سوالات کے اختتام پر اطفال کا نظم خوانی کا مقابلہ ہوا۔ حضوررحمہ اللہ تعالیٰ از راہ شفقت اس موقعہ پر سٹیج پر رونق افروز رہے۔ مختلف بچوں نے اپنی خوبصورت مترنّم آوازوں میں آنحضرت ﷺ کی مدح اور اسلام کی خوبیوں اور نیک نصائح پر مشتمل خوش الحانی سے نئی نئی طرزوں میں منظوم کلام پیش کیا۔ یہ پاکیزہ کلام دلوں میں ایک عجیب روحانی کیفیت پیدا کرنے والا تھا۔ مقابلہ کے آخر پر ججز نے نمایاں پوزیشن لینے والے اطفال کے ناموں کا اعلان کیا۔ حضور نے از راہ شفقت ان سب بچوں کو شرف مصافحہ بخشا اور انہیں محبت اور دعاؤں سے نوازا۔