In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » مجالس عرفان »

دورہء جرمنی ١٢مئی تا ٢٤ مئی ١٩٩٩ء کے دوران منعقد ہونے والی مختلف مجالس سوال و جواب کی مختصر جھلکیاں

رپورٹ : صادق محمد طاہر جرمنی +ابولبیب برطانیہ
+ فہرست مضامین

طلباء کے ساتھ مجلس سوال وجواب ۱۶مئی بروز ہفتہ

۱۶مئی بروز اتوارقریباً ۱۱بجے قبل دوپہر طلباء کی حضرت امیرالمومنین رحمہ اللہ کے ساتھ مجلس سوال وجواب منعقدہوئی۔ یہ مجلس بھی بہت دلچسپ رہی اوراحمدی طلباء نے اپنے پیارے امام رحمہ اللہ سے مختلف امور سے متعلق رہنمائی حاصل کی اور آپ کے جوابات سے مستفیض ہوئے۔ چند ایک اہم سوالات مع مختصر جوابات اپنی ذمہ داری پر ہدیۂ قارئین ہیں:۔

* ۔۔۔ایک سوال یہ کیا گیا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جینس (مصنوعی ذہانت) کوکس حد تک کمپیوٹر میں منتقل کیا جا سکتاہے؟

حضور نے اس کے جواب میں فرمایا کہ کوئی مصنوعی ذہانت خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ذہانت سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔ یہ بنیادی حقیقت یاد رہے تو پھرمصنوعی ذہانت جتنے چاہے کام دکھائے انسان اس سے مرعوب نہیں ہو سکتا۔

*۔۔۔ کیا اسلامی شریعت کے لحاظ سے Shares لینے جائز ہیں؟

حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ Sharesتو اکثر دھوکہ بازی ہے ۔اسلامی اقتصادی نظام کے لحاظ سے تو وہ نظام جو سودپرمبنی ہو اس کے بچے بھی سودی پیدا ہوتے ہیں۔ موجودہ مانیٹری سسٹم اکثر Shares کے ذریعہ روپیہ کو چندہاتھ میں اکٹھا کرتے ہیں۔ احمدیوں کو چاہئے کہ جہاں تک ممکن ہو Shares کے کاروبار سے بالکل الگ ہوں۔

*۔۔۔کوسوا کے حوالے سے سوال کیا گیا کہ کیایہ جنگ تیسری جنگ کا سبب بن سکتی ہے اور جماعت احمدیہ اس بارہ میں کیاکرسکتی ہے ؟

حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کوسوا کی جنگ تیسری جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ جماعت احمدیہ دو قسم کے کام کرسکتی ہے جو کر بھی رہی ہے ۔ ایک تو ان کے دانشوروں کومتنبہ کرناہے کہ دیکھو ایسی حرکتیں نہ کرو جو تیسری جنگ پرمنتج ہو سکتی ہیں۔ یہ انتباہ ہے جو میں بھی کرتا رہتاہوں۔حضور نے فرمایا کہ یہ کوشش کی بات ہے لیکن قرآن کریم کی پیشگوئیوں سے قطعیت کے ساتھ ظاہر ہوتاہے کہ تیسری جنگ تو ہونی ہی ہے ۔ ہمیں اپنی کوشش کا نیک ثواب تو مل جاتاہے لیکن اس کا نتیجہ وہ نہیں نکلے گا کیونکہ اس جنگ کے بغیر اسلام کی طرف یہ متوجہ ہو ہی نہیں سکتے۔

حضور نے فرمایا کہ کوسوا کے جو حالات ہیں سوال یہ ہے کہ کیا یہ اس جنگ پرمنتج ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ بعید نہیں کہ اس جنگ کے نتیجہ میں جو غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اس کے نتیجہ میں روس اور چین ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہو جائیں جو اس سے پہلے نہیں تھے۔ پھر کوریا کے ساتھ مل کر ایسی طاقت بن سکتے ہیں جو بہت بڑی ایٹمی طاقت رکھتی ہے۔ پھر یہ خطرہ ہے کہ کسی غلطی کی وجہ سے ایٹمی جنگ شروع ہو جائے ۔ اگروہ شروع ہو جائے تو پھر ساری دنیا ہی اس خوفناک جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گی ۔ اگر ایساہوتواحمدیوں کے لئے تو ایک ہی اعجاز ہے جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس شعر میں ہے کہ :

آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے

جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار

اس وقت جو اللہ تعالیٰ سے سچا پیار رکھتے ہیں وہی بچائے جائیں گے۔

*۔۔۔ایک سوال یہ کیاگیا کہ وہ لوگ جو سفروں پررہتے ہیں وہ اگر پوری نماز پڑھ لیں تو کیا انہیں زیادہ ثواب نہیں ملے گا؟

حضور نے فرمایا کہ بنیادی نیکی یہ ہے کہ خدا کی خاطر جو بھی وہ تعلیم دیتاہے اسے قبول کیا جائے ۔ اگر وہ سہولت دیتاہے تو اس سہولت کا انکار کرنا نیکی نہیں ہے اس لئے مسئلہ سمجھنا چاہئے۔

*۔۔۔ایک خادم نے سوال کیا کہ کیا جماعت کے آفیشل کام ہم E-Mail کے ذریعے کر سکتے ہیں؟

اس کا جواب دیتے ہوئے حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس بارہ میں میں متعلقہ محکمہ کوہدایت دے چکاہوں۔ میرے نزدیک اس کا استعمال کم سے کم کرنا چاہئے۔ یہ سب نئے نظام امریکن انٹیلی جینس کے پیدا کردہ ہیں اور انہی کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اس ذریعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ جن کو پکڑنا چاہتے ہیں ان کے متعلق مواد تیاررکھتے ہیں۔یہ توا للہ کا فضل ہے کہ جماعت کا کوئی خفیہ نظام ہے ہی نہیں لیکن کیا ضرورت ہے کہ ہم خواہ مخواہ ان کی نظروں میں آتے رہیں۔ جماعت کوتو خطرہ نہیں مگر انفرادی طورپر ایسا خطرہ ہے کہ بعض بیوقوف ایسی حرکت کر جائیں جس سے جماعت کے لئے مشکلات پیش آئیں۔ یہ وہ خطرہ ہے جس پر میری نظررہتی ہے ۔

*۔۔۔ایک سوال یہ کیا گیا کہ آنکھیں بند کر کے نماز پڑھناکیوں مکروہ ہے؟

حضور رحمہ اللہ نے سائل سے دریافت کیا جب آپ کے سامنے کوئی آئے اور آنکھیں بند کر کے آپ سے باتیں کرے تو آپ کو کیا لگے گا ۔ اور جو آنکھیں بند کر کے باتیں کرے اس کے اندر اس کے دل میں کیا گزررہاہے ،یہ بھی پتہ نہیں لگتا۔ اس لئے رسول اللہﷺ نے خدا کے دربار میں آنکھیں بند کر کے باتیں کرنے سے منع فرمایا اور فرمایاکہ ا س طرح اللہ کے سامنے عرض حال کیا کرو کہ گویا خدا سامنے ہے اور تم اسے دیکھتے ہو۔ اس کے سامنے باشعور رہو اور یہ حکمت ہے جس کےپیش نظر آنکھیں بند کر کے نماز پڑھنا مکروہ ہے ۔

*۔۔۔ایک سوال یہ کیا گیا کہ سائنس نئی نئی ایجادیں کررہی ہے ۔ کیا ان کا کوئی کنارہ بھی ہے ؟

حضور رحمہ اللہ نے فرمایاکہ ایجادات کا کوئی کنارہ نہیں ہوتا اور جتنی زیادہ ایجادات ہوں اتنی تیزی سے مزید ایجادات ہوتی ہیں کیونکہ سارے سائنسی میدان ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور ایجادا ت اتنی تیزی سے ہوتی ہیں کہ انسان کا دماغ چکرا جاتاہے اور ہونابھی یہی چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں جو رازپنہاں ہیں ان کاکوئی کنارہ نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ لامتناہی ہے۔ حضور نے بتایاکہ ان ایجادات سے یہ نہیں خیال کرنا چاہئے کہ گویا انسان نے سب کچھ حاصل کر لیاہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ راز پہلے ہی سے تخلیق میں موجود نہ ہوں تو انسان انہیں حاصل کرہی نہیں سکتا۔

*۔۔۔ایک دوست نے کہا کہ سائنس دان کوشش کررہے ہیں کہ انسان کو موت سے بچایاجائے۔

حضور نے فرمایا یہ ناممکن ہے ۔ انسان موت سے بچ سکتا ہی نہیں۔ کسی کی زندگی لمبی تو ہو سکتی ہے مگر اس حد تک جس حد تک اس کی شاکلۃ میں ہے۔ یعنی ہر انسان کے اندرزیادہ سے زیادہ دیر تک زندہ رہنے کی ایک گنجائش ہے اس سے آگے وہ جا ہی نہیں سکتا۔ حضور نے فرمایا کہ جو چیز بنائی جائے اس کی ایک ابتدائی عمر ہے۔ اگر بہت احتیاط کی جائے تو وہ اپنی انتہائی عمر تک پہنچ سکتی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق انسان اپنی زندگی گزارے تو وہ اپنی انتہائی عمرکو پہنچ سکتا ہے۔

*۔۔۔ایک سوال یہ کیا گیا کہ کائنات میں جو بھی طاقتیں کارفرما ہیں کیا ان کو اللہ کا نام دے سکتے ہیں؟

حضور نے فرمایا نہیں۔ یہ طاقتیں خدا کی پیدا کردہ ہیں اور مخلوق ہیں۔ مخلوق کو خالق کا نام دیا ہی نہیں جا سکتا۔

*۔۔۔خدا تعالیٰ دنیا میں جنگیں کیوں ہونے دیتاہے؟

حضور نے فرمایاجو اللہ کی بات نہیں مانیں گے وہ توضرور لڑیں گے۔ حضور نے فرمایا کہ ماں باپ بچوں کو کہتے ہیں کہ نہ لڑو اور اچھے بچے بنو۔ اگر وہ کہنا نہ مانیں تواس کی ذمہ داری ان پر تو نہیں آتی۔ دنیا میں اکثر لوگ خدا کی بات نہیں مانتے تو پھر وہ جو کچھ کرتے ہیں ا س کے وہ خود ذمہ دار ہیں۔

*۔۔۔ایک سوال یہ ہوا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی ہجرت کے بعد ان کے فلسطین واپس نہ آنے میں کیا حکمت تھی؟

حضور انور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ فلسطین کے دو یہودی قبائل انہیں ردّ کر چکے تھے اور دس قبائل ایسے باقی تھے جن کے مقدر میں انہیں قبول کرنا تھا۔ دوسرے ایک دفعہ جب کوئی قوم کسی نبی کو ردّ کر دے تو پھروہ واپس اس وقت تک اس قوم میں نہیں آتا جب تک وہ فتح کے ساتھ واپس نہ آئے۔ حضرت مسیحؑ کو اس لئے موقعہ نہیں ملا کہ آپ کے خلاف فیصلہ ہو چکا تھا اور اگر دوبارہ آتے تو ان یہودیوں نے آپ کو پھر صلیب پر لٹکا دیناتھا۔

*۔۔۔سقراط کو بعض لوگ نبی کہتے ہیں جبکہ انہوں نے زہر کا پیالہ پی کر خودکشی کی ؟

حضورنے فرمایا کہ حضرت سقراط نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ میں خود کشی کاہرگز قائل نہیں مگرجب قانون مجبور کرتاہے اور اس نے موت کا یہ ذریعہ تجویز کر دیا ہوتو ا س سے بھاگ نہیں سکتا۔ یہ وجہ ہے کہ ا س کے باوجود انہوں نے زہر کا پیالہ پیا۔ جب دشمن نے ان کے لئے یہ ہتھیار تجویز کیا تو جو بھی ذمہ داری ہے وہ وقت کی حکومت کی ہے نہ کہ سقراط کی۔یہ پُر لطف مجلس کم و بیش ایک گھنٹہ تک جاری رہی ۔

صفحہ نمبر: 3 (کل صفحات: 9)