ناصرباغ (گروس گیراؤ) میں جرمن مہمانوں کے ساتھ مجلس سوال وجواب (۲۰ مئی ۱۹۹۹ء)
ناصرباغ(گروس گیراؤ) جہاں ایک عرصہ تک جماعت احمدیہ جرمنی کے جلسہ ہائے سالانہ اور ذیلی تنظیموں کے اجتماعات اوردیگراہم تقریبات کا انعقاد ہوتارہا ہے ۔ وہاں مسجدبیت الشکور میں جرمن افراد کے ساتھ ایک مجلس سوال وجواب کا انعقاد کیاگیا۔ چنانچہ حضور انور رحمہ اللہ تعالیٰ شام ساڑھے چھ بجے کے قریب مسجد میں تشریف لائے اورکرسی ٔ صدارت پر رونق افروزہونے کے بعد ترجمانی کے فرائض سرانجام دینے والے محترم ہدایت اللہ ھبش صاحب سے دریافت فرمایا کہ کیا نئے سوالات بھی ہیں یا پرانے ہی ہیں؟ تو ھبش صاحب نے جو تحریری طور پر سوالات وصول کر رہے تھے جواباً کہا کہ نئے سوالات بھی ہیں۔ واضح رہے کہ حضور نے اپنے گزشتہ سال کے دورہ میں ناصر باغ میں ہی مجلس سوال وجواب میں اس بات کا اظہار فرمایا تھا کہ نئے لوگ اور نئے سوالات بھی آنے چاہئیں۔ چنانچہ امسال یہ کوشش کی گئی تھی کہ نئے سوالات پیش کئے جائیں۔
تلاوت قرآ ن کریم اور اس کے جرمن ترجمہ کے بعد سوالات کا سلسلہ شروع ہوا جن کے جوابات حضور انور رحمہ اللہ نے ارشاد فرمائے۔ حضور انور کے دینی و دنیوی علوم پرمشتمل جوابات سے لوگ بہت متاثر ہوئے یہاں تک کہ بعض مردوزن ایک دوسرے کومسرت سے دیکھ کر تسلی کا اظہار کرتے تھے۔ ان میں سے بعض سوالات اور ان کے جوابات کا خلاصہ احباب کے ازدیاد علم وعرفان کے لئے اپنی ذمہ داری پر پیش خدمت ہے :
*۔۔۔اسلام میں جنت و دوزخ کا کیا تصورہے؟
حضور اید ہ اللہ نے فرمایا کہ حقیقت میں اسلام میں جنت ودوزخ کا تصور بہت منطقی اور معقول ہے ۔ ہر شخص اس دنیا کی زندگی میں ہی اپنی جنت یا جہنم بنا تاہے۔ تمام لوگ جو دوسروں سے نیک سلوک کرتے ہیں اور ذمہ داری سے اپنے فرائض ادا کرتے ہیں وہ ایک محبت اور امن کے ماحول میں رہتے ہیں ۔ یہی لوگ ہیں جو جنت میں جائیں گے۔ وہاں ان کے اس دنیا کے اعمال مختلف شکلوں میں متمثل ہو کر ظاہر ہونگے۔ جب آپ خدا اور اس کے بندوں سے امن اور تسلیم کے ساتھ رہتے ہیں توگویاآپ دودھ اور شہد کی نہروں میں بستے ہیں۔ شہد میں شفا ہے اور دودھ ایک جامع خوراک ہے ۔اگلے جہان میں جو بھی آپ کو ملے گا وہ علامتی(Symbolic) ہوگا لیکن درحقیقت خدا کے قرب کی وجہ سے آپ اس دنیا کی نسبت وہاں زیادہ خوش ہونگے۔ ایسا ہی حال دوزخیوں کا ہے جو لوگوں کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں وہ کبھی بھی امن کے ساتھ اور خوشی کے ساتھ نہیں رہتے۔ ان کے دلوں میں ایک آگ لگی ہوتی ہے ۔ یہی آگ ہے جوان کے لئے اگلے جہان میں متمثل ہوگی۔
*۔۔۔ایک ضمنی سوال کے جواب میں حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ روح انسان کے اندر ایک لطیف چیزہے ۔ یہ انسان کے اندرآخری اتھارٹی ہے۔ جو بھی آپ اچھا یا برا کام کریں اس کا روح پراثر پڑتا ہے۔ روحیں نہ نَر ہیں نہ مادہ ۔ جب یہ روحیں بدن سے آزاد ہوتی ہیں تو انہیں ایک خاص شکل دی جاتی ہے ۔ اِس دنیا میں انسان کا رہن سہن اور طرزعمل اُس روح کی شکل متعین کرتے ہیں۔ جو روحیں اس دنیامیں خدا کی صفات کا رنگ اختیار کرتی ہیں وہ خدا کے ہاں زیادہ حسین ہونگی اور جو کم صفات کو اپنانے والی ہونگی وہ اسی نسبت سے کم حسین ہونگی۔
*۔۔۔کیا آپ کے نزدیک مشرق و مغرب میں اسلام کو غلط طور پر پیش کیا جاتاہے؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایاکہ بدقسمتی سے اس کی ذمہ داری مسلمانوں پرہی عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ حقیقی اسلام کی تعلیمات اور بانی ٔ اسلام ﷺ کے اسوہ پر عمل نہیں کررہے۔ مغرب ان کی حرکتوں کو اچھالتاہے کہ کیوں نہ اس اسلام کولوگوں کے سامنے پیش کیاجائے جسے مغربی دنیا کبھی قبول نہیں کر سکتی۔ میرے خیال میں اسلام کے متعلق جو بھی منفی پراپیگنڈہ کیاجاتاہے اس کے ذمہ دار مسلمان ہی ہیں۔ اس کی مثال کے طورپر حضور نے فرمایا کہ مثلاً اسلام کے نام پردہشت گردی کرنا، لوگوں کو جبراً اسلام میں داخل کرنا، غیر مسلموں کو اسلامی حکومتوں کے اندر رہتے ہوئے اپنے عقیدے پر قائم رہنے اور اس پرعمل کرنے سے روکنا ۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔
*۔۔۔اگلا سوال یہ تھا کہ آپ کا یعنی جماعت احمدیہ کا دیگر اسلامی تنظیموں سے کیافرق ہے ؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہم ان تمام باتوں کو رد کرتے ہیں جن کا ابھی میں نے ذکر کیاہے۔ ہم مذہب کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں ۔ ہر مذہب کوآزاد رہنا چاہئے کہ و ہ اپنے عقائد کا پرچارکرے مگر تلوار اور جبرواکراہ کے ساتھ نہیں بلکہ محبت کے ساتھ اورعقل اور دلائل و براہین کے ساتھ دوسروں کو قائل کیاجائے ۔
*۔۔۔اس سوال کے جواب میں کہ ایک الگ اسلامی جماعت بنانے کی کیاضرورت تھی؟
حضور انور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے لئے بہت اہم تھا کہ ہم ان لوگوں سے ممتاز ہوں جن کا ابھی میں نے ذکرکیاہے۔ اگر ہم ایک امتیازی حیثیت نہ رکھیں تو تمام دیگر مسلمانوں کے غلط کاموں کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی ان جیسا ہی شمار کیاجاتا ۔ مگر جب ہم اپنے تعارف میں ’احمدیہ مسلم جماعت‘ کہتے ہیں تو لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ ہم دوسروں سے مختلف ہیں اور ہم مذہب میں محبت اور امن کا پرچار کرنے والے ہیں اور صرف احمدیہ نام کی وجہ سے لوگ جان لیتے ہیں کہ ہمارا مؤقف کیا ہے۔
*۔۔۔ایک سوال یہ کیا گیا کہ قرآن کو سمجھنا کافی مشکل ہے !
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ قرآن کو سمجھنا بہت مشکل ہے یہ بہت گہرے فلسفیانہ اور علمی مضامین پرمشتمل ہے ۔ اس کی فلاسفی تمام کائنات پر حاوی ہے ۔ عام آدمی کے لئے اس کو سمجھنا بہت مشکل ہے ۔ اس پہلوسے گویااس کا عرفان حاصل نہیں کیاجاسکتا لیکن بایں ہمہ یہ دعویٰ کرتاہے کہ یہ ہر شخص کے لئے ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کامذہبی قانون بہت واضح اورسادہ ہے اور ہر مسلمان آسانی سے سمجھ سکتاہے کہ اسے قرآنی احکام کے مطابق کس طرح اپنی زندگی گزارنی چاہئے ۔ تویہ بیک وقت قریب ہونے کے باوجودبہت دور بھی ہے ۔ حضور نے فرمایا کہ قرآ ن مجید کے وسیع مضامین سے متعلق کسی قدر تعارف کے لئے، اگرآپ انگریزی جانتے ہیں،تو میری کتاب "Revelation,Rationality,Knowledge and Truth"سے فائدہ اٹھائیں۔
*۔۔۔آپ عورتوں اور بچیوں کی تعلیم کے لئے کیا کر رہے ہیں؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہم ہر قسم کی تعلیم(ایجوکیشن) کے لئے وقف ہیں۔ قرآن مجیدکی تعلیم بھی ایک تعلیم ہے ۔ ہم اپنی عورتوں کو دوطورپر تعلیم دیتے ہیں۔ انہیں مذہبی پہلوؤں سے بھی تعلیم دیتے ہیں اور سیکولر تعلیم میں بھی آگے بڑھنے کے لئے حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ اگر کوئی غریب عورت محض تعلیم کے لئے فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے محروم ہو رہی ہو اور اگر اس میں تعلیمی استعداد ہے توجماعت اس کی مدد کرتی ہے ۔ نہ صرف جرمنی میں بلکہ ساری دنیا میں ایسا ہو رہا ہے ۔ دنیا میں کوئی مذہبی جماعت اپنی عورتوں اور بچوں کی تعلیم کے لئے اتنی کوشش نہیں کر رہی جتناہماری جماعت کررہی ہے۔
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مکرم امیر صاحب جرمنی نے بتایا ہے کہ جرمنی میں احمدی عورتوں اوربچیوں کا دینی و دنیاوی تعلیم کامعیار لڑکوں اور مردوں سے بہت بلند ہے۔
*۔۔۔ابارشن یعنی اسقاط حمل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگرطبی طورپر ڈاکٹرمریض کو کہے کہ بچہ جو ماں کے رحم میں ہے وہ اتنا مریض ہے کہ وہ ماں کی زندگی کے لئے خطرہ ہو سکتاہے تو اس صورت میں اسلام ابارشن یعنی اسقاط حمل کی اجازت دیتاہے۔
*۔۔۔موسیقی اور اسلام کے متعلق ایک سوال کے جواب میں حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سچا مذہب اپنی ایک موسیقی رکھتاہے۔ یعنی ہر سچا مذہب خدا کے تعلق میں ایک ایسی محبت پیدا کرتاہے جو روح میں موسیقی کی لہریں پیدا کرتی ہے اور روح کو ایک سکون اور طمانیت بخشتی ہے ۔ موسیقی کا مقصد اعصاب کو تسکین اور آرام پہنچانا ہے۔ کہا جاتاہے کہ موسیقی روح کو طمانیت بخشتی ہے مگر یہ بات پرانی ہو چکی ہے ۔ آج کل کا پاپ میوزک اور راک میوزک روح کو تسکین نہیں دیتا بلکہ روح کو اوچھی حرکات(Vulgarity) پرابھارتاہے ۔
حضور نے فرمایا کہ اسلام مسجدوں میں عبادت کے لئے موسیقی سے مدد لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ کیونکہ اگر آپ واقعۃً خدا پر ایمان رکھتے ہیں تو یہ ایما ن خو د بخود اپنی ذات میں روح کو ایک راحت و تسکین بخشتاہے۔
*۔۔۔اسلام کا سائنس کے متعلق کیا رویہ ہے ؟
اس سوال کے جواب میں حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میرے نزدیک کو ئی سچا مذہب کسی صورت میں سائنس سے متضاد اور متصادم نہیں ہو سکتا اور یہ دعویٰ نہایت معقول ہے۔ اسکے سوا کوئی دعویٰ ہو ہی نہیں سکتا اور یہ اسلام پر پوری طرح اطلاق پاتاہے ۔ مذہب خدا کا قول ہے اور سائنس خدا کا فعل ۔ تو خدا کا قول اس کے فعل کے خلاف کیسے ہو سکتاہے۔حضور نے فرمایا میرا ایمان ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اور حضرت موسیٰؑ اور ہر نبی کے وقت میں ایسا ہی تھا۔ سائنس اورمذہب کبھی ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہوئے۔ بعض لوگ جو معجزہ کو غلط سمجھے انہوں نے مذہب اور سائنس میں تصادم دکھایا۔ یہ سب اس دور کی باتیں ہیں جب لوگوں نے مذہب کو غلط طور پرسمجھا ۔ عیسائیت میں بھی ایسا ہی ہوا۔بگڑی ہوئی عیسائیت میں لوگوں نے دیکھا کہ یہ سائنسی حقائق سے متصادم ہے تووہ مذہب سے دور ہوتے گئے۔
حضور نے فرمایا کہ اگرآپ معجزہ کی اصلیت کو سمجھ لیں تو سائنس اور مذہب میں کوئی تضاد دکھائی نہیں دے گا۔ حضرت عیسیٰؑ کے معجزات کو لوگو ں نے سمجھا کہ گویا وہ قوانین قدرت سے متصادم تھے ۔ حضور نے فرمایا کہ میں ثابت کر سکتاہوں کہ ایساہرگز نہیں تھا۔
*۔۔۔ جرمنی میں جہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں پبلک سکولز میں بچوں کو مذہبی تعلیم دینے کے متعلق بحث ہو رہی ہے ۔ آپ کا اس بارہ میں کیا نظریہ ہے ؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں اس بات کا سخت مخالف ہوں ۔ اگر حکومت یہ سلسلہ شروع کر دے تو کس مذہب کو وہ تعلیم کے لئے چنے گی اور پھر ایک مذہب کے اندر مختلف فرقوں کے باہم اختلافات ہیں ان میں سے کس کو ترجیح دیں گے ؟ اسلام میں تہتّر فرقے ہیں ۔ اسی طرح عیسائیت اوریہودیت میں بھی بے شمار فرقے ہیں ۔ حضور نے فرمایا میں نے ہمیشہ یہ تجویزدی ہے کہ سکولوں میں صرف اخلاقی تعلیم دی جائے ۔ جب آپ اخلاقی تعلیم کا انتخاب کریں گے تواس میں آپ تمام مذاہب کو متحدو مشترک پائیں گے۔
*۔۔۔خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خدا کو کوئی سمجھ نہیں سکتا کیونکہ خدا نے ہمیں پیدا کیا ہے اور ہمارے اوراس کے درمیان اتناعظیم فرق ہے کہ ہم اس کا تصور پوری طرح کرہی نہیں سکتے۔
حضور نے مثال کے طور پر فرمایاکہ ایک کیڑا انسان کاتصور کرہی نہیں سکتا ۔ اسی طرح مثلاًایک کمپیوٹر انسان کے تصور کا احاطہ نہیں کر سکتا ۔ کوئی مخلوق اپنے خالق کی حقیقت کو نہیں پا سکتی۔اسی طرح ہم خدا کی کنہہ کہ نہیں پا سکتے ۔ اس سوال کے جواب میں حضور نے ارسطو کاذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے علم کے مطابق ارسطو ایک عظیم فلاسفر تھا ۔ وہ سمجھ گیاتھا کہ جو کچھ بھی پیدا ہوا ہے وہ اتنا Complex ہے کہ ناممکن ہے کہ یہ از خود وجود میں آیا ہو۔
یہ دلچسپ مجلس قریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہی جس میں یک صد کے لگ بھگ جرمن مہمانوں نے شرکت کی۔