جرمن مہمانوں کے ساتھ مجلس سوال وجواب (۲۱مئی۱۹۹۹ء)
آ ج سہ پہر حضرت امیرالمومنین رحمہ اللہ کے ساتھ جرمن مہمانوں کی ایک مجلس سوال وجواب منعقدہوئی۔ ذیل میں بعض اہم سوالات و جوابات کا خلاصہ اپنی ذمہ داری پر ہدیۂ قارئین ہے :۔
*۔۔۔اگر اسلام کسی کلچرکو پسند نہیں کرتا تو کیا ایسے کلچر کے تعلق میں والدین کی نافرمانی ہو سکتی ہے ؟
حضور انور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کلچر ایک سوشل نظام کا یونیورسل تصور ہے او ر کلچرمسلسل بڑھتا رہتاہے جیسے پھولوں کا گلدستہ ہو اس میں اور پھول شامل کریں تو گلدستہ میں او ر رنگ بھرجاتے ہیں ۔
حضور نے فرمایا لیکن بعض نظریات ایسے ہیں جو بعض مذاہب سے خاص ہیں ۔ مذہبی لحاظ سے بچوں کو صرف کلچرکے اس حصہ میں شمولیت سے باز رہنا چاہئے جس بارہ میں وہ کلچر مذہب سے متصادم ہے۔ اگرماں باپ کا کلچر آزاد ہے اورکسی مذہب کے خلاف نہیں تو اس کلچرمیں رہنے میں کیا حرج ہے۔ اگر وہ کلچر مذہب سے متصادم ہے تو اس بارہ میں ماں باپ کی نافرمانی کا سوال نہیں بلکہ خدا کی نافرمانی کا سوال ہے۔
*۔۔۔کیا آپ یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک روز پاکستان میں کثرت سے لوگ احمدیت کوقبول کریں گے ؟
حضور انور فرمایا مجھے یقین ہے کہ خدا کے فضل سے ایک دن احمدیہ جماعت ساری دنیا میں غالب آئے گی پاکستان تو دنیا کا ایک معمولی حصہ ہے۔ مگر اِس وقت آپ کے لئے اُس گھڑی کا تصور کرنا بہت مشکل ہے کہ ایسا کیونکر ہوگا۔ لیکن ماضی کی تاریخ میں جھانک کر دیکھیں کہ جب مسیح ناصری فلسطین میں تھے تو کتنے لوگوں نے انہیں قبول کیا تھا۔ شاید تیس آدمیوں نے لیکن انجامکار کون غالب آیا۔حضر ت مسیح علیہ السلام غالب آئے اور ان کے مخالف ناکام رہے۔ ابھی یہ یقین کرنا مشکل ہے لیکن ایسا ہوکر رہنے والا ہے۔
*۔۔۔حقیقی امن کے قیام کے لئے ہم کیا کرسکتے ہیں؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ امن کے موضوع پرمیں نے کئی بار کہا ہے کہ امن عدل کی بنیادوں پراستوار ہو سکتاہے اورعدل Absolute ہونا چاہئے ۔ عدل ریجنل یا علاقائی نہیں ہو سکتا۔ یہ عالمی ہونا چاہئے۔ دنیا کے سیاستدانوں کو عالمی انصاف کے لئے کوشش کرنا ہوگی لیکن اس سے وہ احتراز کرتے ہیں تو حقیقی امن کیسے قائم ہو سکتاہے۔ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے نیچے کی منزل تعمیر کئے بغیر اوپر کی منزل بنانے کی کوشش کی جائے ۔
*۔۔۔عورت کے متعلق قرآ ن مجیدکیا کہتاہے اور اسلام میں روزمرہ کی زندگی میں عورت کا کیا کردار ہے؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ قرآن مجید ایک حقیقت پر مبنی کتاب ہے ۔ اور خدا کے کلام کوایسا ہی ہونا چاہئے۔ یہ کہتاہے کہ عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر مردوں کے حقوق ہیں۔ حضور نے مردوں اور عورتوں میں فطری فرق کو ظاہر کرتے ہوئے فرمایا کہ مرد اپنے پیٹ میں بچے نہیں اٹھا سکتے ۔ عالمی سطح پر مردوں اور عورتوں کے کھیلوں کے مقابلے الگ الگ ہوتے ہیں۔ یہ ناانصافی نہیں بلکہ انصاف کے مطابق ہے۔ اسی طرح اسلامی تعلیم عورتوں کے تقاضوں کے مطابق ان کے لئے خصوصی احکاما ت رکھتی ہے ۔ لیکن جہاں تک حقوق کا تعلق ہے ان کے حقوق میں برابری ہے ۔
حضور نے فرمایا کہ جرمنی میں مقیم احمدی عورتوں کو آپ خود مشاہدہ کر سکتے ہیں ۔ اگر وہ چاہیں تو اس آزاد ملک میں آزادانہ زندگی کی طرز عمل اختیار کرسکتی ہیں لیکن انہوں نے جو پردہ اختیار کر رکھاہے وہ اپنی مرضی سے ہے اور وہ اس میں خوش ہیں کیونکہ اسلام ان کی اعلیٰ ترقیات میں روک نہیں بنتا۔ اگر وہ چاہیں تو سائنسدان بن سکتی ہیں ، ٹیچر ، ڈاکٹر ، سرجن وغیرہ بن سکتی ہیں۔ زندگی ان کے لئے بہت سے مواقع مہیاکرتی ہے اور اسلام ان کے ان ارفع مقامات تک پہنچنے میں ممد ہے اور کسی صورت میں بھی روک نہیں۔
*۔۔۔جب کوئی مرتاہے تواس کی روح سے کیا ہوتاہے۔ کیاوہ اس دنیا میں رہتی ہے یا کہاں جاتی ہے؟
حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ روح ان چارجہات سے متعلق نہیں جنہیں ہم جانتے ہیں۔ آسمانی یابہشتی روح اس جگہ رہ سکتی ہے جہاں دوسری روحیں ہیں کیونکہ ان کی Dimensions میں فرق ہے ۔ حضور نے فرمایا ا س موضوع پر ’’اسلامی اصول کی فلاسفی ‘‘بہت بہتر کتاب ہے۔
*۔۔۔اگرہرچیز خدا کی پیدا کردہ ہے تو وہ گویا خدا کا حصہ ہے ؟
حضور نے فرمایا کہ خالق اور مخلوق ہمیشہ مختلف ہوتے ہیں ، وہ کبھی ایک نہیں ہو سکتے ۔ مثلاً یہ ہال کسی نے بنایا ہے مگر وہ خود ہال نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ ااس ہال میں اس کے نقوش مرتسم ہیں مگروہ اس سے مختلف ہے ۔ ایک آرٹسٹ جو آرٹ بناتاہے وہ کتنی بھی خوبصورت تصویر بنائے وہ تصویرآرٹسٹ نہیں ہوتی۔
*۔۔۔اس سوال کے جواب میں کہ اسلام مسلمان عورتوں کی غیر مسلموں سے شادی کو Promote نہیں کرتا ۔ حضور نے فرمایا کہ اگر کوئی عورت خدا کے حکم کے خلاف کسی عیسائی سے شاد ی کرتی ہے تو یہ اس کا اور خدا کا معاملہ ہے ۔ میں کون ہوتاہوں جو اس کے معاملہ میں دخل دوں۔ و ہ اپنے لئے جو رستہ چاہے اختیار کرے ۔
*۔۔۔پاکستان میں احمدیوں پرظلم کیوں ہوتے ہیں؟حضور نے فرمایا کہ اس بارہ میں میں آپ کو ایک بنیادی حقیقت کی طرف توجہ دلاتاہوں ۔ جب عقل اور دلیل کے میدان میں لوگ شکست کھاتے ہیں تو پھروہ ظلم و ستم پرآمادہ ہو تے ہیں۔ حضر ت عیسیٰؑ پر ظلم کیوں کئے گئے۔ ان کا پیغام تو یہ تھا کہ کوئی تمہارے ایک گال پرتھپڑ مارے تودوسرا آگے کردو۔ اس سے نرم تعلیم بھی کوئی ہو سکتی تھی؟مگر پھر بھی ان کی مخالفت ہوئی ۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان کے مخالف جانتے تھے کہ یہ پیغام غالب آنے والا ہے اور اسی خوف نے انہیں ظلم و ستم پر آمادہ کیا ۔ حضور نے فرمایا ملاں اور سیاسی لوگ جانتے ہیں کہ احمدیت کا پیغام دلیل کے ذریعہ مغلوب نہیں کیا جا سکتا ۔اس لئے انہوں نے خیال کیا کہ وہ تلوار کے ذریعہ اسے دبا دیں گے ۔ لیکن یہ ناممکن ہے ۔ وہ تاریخ کو للکار رہے ہیں اور تاریخ جیتے گی اور جیت کر رہے گی۔
*۔۔۔اسلام اور عیسائیت میں کیا فرق ہے اور عیسائی عقیدہ میں کیا غلطی ہے ؟
ا س سوا ل کے جواب میں حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر عیسائی عقیدہ سے مراد حضرت مسیح ناصری ؑ کا عقیدہ ہے تواس میں کوئی غلطی نہیں ۔ یہ ناممکن ہے کہ ہم ان کے عقیدہ کوغلط کہیں۔ بانی ٔ جماعت احمدیہ نے مسیح زماں ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ مسیح اول کے عقیدہ کو غلط کہیں۔ انہوں نے یہ کہا ہے کہ یہ نہایت اہم وقت ہے کہ عیسائی حضرت مسیح ناصری کے پیغام کی طرف واپس لوٹیں اور سینٹ پال کی عیسائیت کو ترک کردیں۔ عیسائی عقیدہ اپنی مبادیات میں اسلام سے مختلف نہیں لیکن تفصیلات میں فرق ہے۔ جیسے ارتقاء میں زندگی نئے مراحل طے کرتی ہے اسی طرح مذہبی ارتقاء میں اسلام آخری نقطۂ عروج ہے ۔