In the Name of Allah, The Most Gracious, Ever Merciful.

Love for All, Hatred for None.

Al Islam Home Page > Urdu Home Page > Al Islam Urdu Library
اردو » الاسلام اردو لائبریری » مجالس عرفان »

دورہء جرمنی ١٢مئی تا ٢٤ مئی ١٩٩٩ء کے دوران منعقد ہونے والی مختلف مجالس سوال و جواب کی مختصر جھلکیاں

رپورٹ : صادق محمد طاہر جرمنی +ابولبیب برطانیہ
+ فہرست مضامین

احمدی طالبات اور ناصرات الاحمدیہ کے ساتھ مجلس سوال وجواب (۲۲مئی ۱۹۹۹ء)

آج صبح ساڑھے نوبجے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ ایپل ہائم میں ناصرات الاحمدیہ کے ساتھ مجلس سوال و جواب اور نومبایعات کے ساتھ ایک نشست میں شمولیت کی غرض سے مسجد نور فرینکفورٹ سے روانہ ہوئے ۔ ساڑھے دس بجے ناصرات الاحمدیہ کے ساتھ مجلس سوال و جواب شروع ہوئی۔ تلاوت قرآن کریم اور اس کے ترجمہ کے بعدسوال وجواب شروع ہوئے۔ چند ایک خاص سوالات اور ان کے مختصر جوابات اپنی ذمہ داری پر پیش ہیں:۔

*۔۔۔کیا احمدی حج کے موقعہ پر غیر احمدی امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں؟

حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ احمدی ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا جو خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ امام کا انکار کرتا ہے۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول ؐ کے مقرر کردہ امام کا منکر ہونے کی جرأت کرتاہے وہ امام ہے ہی نہیں۔ وہ محض نام کا امام ہے اس کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ اس لئے احمدی حج کے موقعہ پر اپنے امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔

*۔۔۔ایک لڑکی نے سوال کیا کہ ایک جرمن لڑکی جو مسلمان ہونا چاہتی ہے پوچھتی ہے کہ کیا مسلمان ہونے کے بعد سر ڈھانپنا ضروری ہے ؟

حضور رحمہ اللہ نے فرمایا سر ڈھانپنا تو لازم ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اس کی تعلیم دی ہے۔ اسلام سے پہلے دوسرے مذاہب میں بھی یہ تعلیم تھی ۔ عیسائیت میں بھی یہی حکم ہے ۔ سرڈھانپنا عورت کے لئے از حد ضروری ہے ۔ حضور نے فرمایا کہ مردوں کے لئے بھی سر پرٹوپی یا کوئی لباس ہو تو اس سے ذمہ داری کا احساس ہوتاہے۔

*۔۔۔لو گ کہتے ہیں بائبل اورتوراۃ میں بہت تبدیلی ہو چکی ہے ۔ ہمیں کیسے پتہ چلے کہ قرآن میں تبدیلی نہیں ہوئی؟

حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ بائبل کے متعلق ان کے اپنے محققین کا اعتراف ہے کہ ا س میں تبدیلی ہوئی ہے اور ہوتی رہی ہے ۔ یہ تو شک سے بالا بات ہے ۔ جہاں تک قرآن مجید کا تعلق ہے چونکہ یہ ساتھ ساتھ تحریرمیں بھی آ رہا تھا اور زبانی بھی اسے یاد کیاجارہاتھا ۔ حضرت عثمانؓ نے جب اسے جمع کیا تو تحریر کے علاوہ حفاظ کی زبانی یادداشت سے بھی اسے جمع کیا ۔ حضور نے قدرے تفصیل سے اس موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ قرآن کریم ہر قسم کی انسانی دستبرد اور تبدیلیوں سے محفوظ ہے ۔

*۔۔۔ڈراؤنے خوابوں کے متعلق ایک سوال کے جواب میں حضور انور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے ہمیں یہ اطمینان دلایاہے کہ ڈراؤنے خواب اکثر تو نفس کے خواب ہوتے ہیں ۔ انسان کے وہم اور خوف جو دن بھر جاری رہتے ہیں وہی اس میں بھی جاری رہتے ہیں ۔ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی منذر خواب ہوں تو وہ تنبیہ کے طورپر ہوتے ہیں ۔ اس کاعلاج یہ ہے کہ دعا کرو، توبہ کرو ، استغفار کرو ، صدقہ و خیرات کرو تو اس سے بلا کو ٹالا جا سکتاہے ۔

قریباً ایک گھنٹہ تک یہ مجلس سوال وجواب جار ی رہی۔ سوالات وجوابات کا ساتھ ساتھ جرمن زبان میں ترجمہ بھی پیش کیا جاتارہا۔

نومبایعات کے ساتھ نشست

گیارہ بج کر چالیس منٹ پر اسی ہال میں نو احمدی مبایعات کے ساتھ ایک نشست منعقد ہوئی جس میں جرمن، افغانی، بوسنین، البانین بچیوں اور مستورات نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کامنظوم کلام اردو میں پڑھ کر سنایا ۔ اگرچہ اردو ان کی زبان نہیں تھی لیکن دل کی گہرائی سے پڑھا جانے والا مامور زمانہ کا پاکیزہ کلام جو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ، آنحضرت ﷺ کی نعت اور اسلام و قرآن مجید کے فضائل پرمشتمل تھا، ایک عجیب وارفتگی پیداکر رہا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بشارت دی تھی کہ ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پئے گی۔ آپ کے پاکیزہ روحانی کلام کے چشمۂ رواں سے آج ہر قوم سیراب ہو رہی ہے ۔پھر مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والی بچیوں نے حضرت میر محمد اسمٰعیل صاحبؓ کی نظم’’الٰہی مجھے سیدھا رستہ دکھا دے‘‘پڑھی۔ حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ پروگرام بہت اچھا ہے لیکن اسے صحیح طریق پرابھی منظم نہیں کیا جا سکا۔ جنہوں نے بھی نظم پڑھی ہے اللہ کے فضل سے اچھی پڑھی ہے مگر اورمحنت ہوتی تو جو اچھی کلاسیکل آوازیں ہیں ان کی نقل اتار سکتی تھیں۔ یہ خیال بہت اچھا ہے اس سے انشاء اللہ اردوکلاس میں بہت مدد ملے گی۔ آپ کی کیسٹ کو جہاں تک ممکن ہوا اردو کلاس میں سنا کر اس کا ترجمہ بھی بتاؤں گا۔ حضور نے فرمایا کہ لندن واپس جا کراس سے زیادہ قومیت کے بچوں کو منظم کراؤں گا تا کہ کثرت سے مختلف قومیتوں کی آواز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ سناسکیں۔

صفحہ نمبر: 8 (کل صفحات: 9)