بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah, Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
تفاسیر
وَالَّذِیۡنَ یُتَوَفَّوۡنَ مِنۡکُمۡ وَیَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا ۚۖ وَّصِیَّۃً لِّاَزۡوَاجِہِمۡ مَّتَاعًا اِلَی الۡحَوۡلِ غَیۡرَ اِخۡرَاجٍ ۚ فَاِنۡ خَرَجۡنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡ مَا فَعَلۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِنَّ مِنۡ مَّعۡرُوۡفٍ ؕ وَاللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۴۱﴾
And those of you who die and leave behind wives shall bequeath to their wives provision for a year without their being turned out. But if they themselves go out, there shall be no blame upon you in regard to any proper thing which they do concerning themselves. And Allah is Mighty, Wise.
اور تم میں سے جو لوگ وفات دیئے جائیں اور بیویاں پیچھے چھوڑ رہے ہوں، اُن کی بیویوں کے حق میں یہ وصیت ہے کہ وہ (اپنے گھروں میں) ایک سال تک فائدہ اٹھائیں اور نکالی نہ جائیں۔ ہاں! اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں اس بارہ میں جو وہ خود اپنے متعلق کوئی معروف فیصلہ کریں۔ اور اللہ کامل غلبہ والا (اور) صاحبِ حکمت ہے۔
تفاسیر
وَلِلۡمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ؕ حَقًّا عَلَی الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۲۴۲﴾
And for the divorced women also there should be a provision according to what is fair — an obligation on the God-fearing.
اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق کچھ فائدہ پہنچانا ہے۔ (یہ) متّقیوں پر فرض ہے۔
تفاسیر
کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲۴۳﴾٪
Thus does Allah make His commandments clear to you that you may understand.
اسی طرح اللہ اپنے نشانات تمہارے لئے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم عقل کرو۔
تفاسیر
اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَہُمۡ اُلُوۡفٌ حَذَرَ الۡمَوۡتِ ۪ فَقَالَ لَہُمُ اللّٰہُ مُوۡتُوۡا ۟ ثُمَّ اَحۡیَاہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۲۴۴﴾
Dost thou not know of those who went forth from their homes, and they were thousands, fearing death? And Allah said to them: ‘Die;’ then He brought them to life. Surely, Allah is Munificent to men, but most men are not grateful.
کیا تجھے ان لوگوں کی اطلاع نہیں جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکلے، اور وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے۔ تو اللہ نے ان سے کہا تم موت قبول کرو۔ اور پھر (اس طرح) انہیں زندہ کر دیا۔ یقینا اللہ لوگوں پر بہت فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ (اس کا) شکر ادا نہیں کرتے۔
تفاسیر
وَقَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۴۵﴾
And fight in the cause of Allah and know that Allah is All-Hearing, All-Knowing.
اور اللہ کی راہ میں قتال کرو اور جان لو کہ اللہ بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔
تفاسیر
مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقۡرِضُ اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗۤ اَضۡعَافًا کَثِیۡرَۃً ؕ وَاللّٰہُ یَقۡبِضُ وَیَبۡصُۜطُ ۪ وَاِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۴۶﴾
Who is it that will lend Allah a goodly loan that He may multiply it for him manifold? And Allah receives and enlarges, and to Him shall you be made to return.
کون ہے جو اللہ کو قرضہ حسنہ دے تاکہ وہ اس کے لئے اسے کئی گنا بڑھائے۔ اور اللہ (رزق) قبض بھی کر لیتا ہے اور کھول بھی دیتا ہے۔ اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
تفاسیر
اَلَمۡ تَرَ اِلَی الۡمَلَاِ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰی ۘ اِذۡ قَالُوۡا لِنَبِیٍّ لَّہُمُ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ قَالَ ہَلۡ عَسَیۡتُمۡ اِنۡ کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوۡا ؕ قَالُوۡا وَمَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَقَدۡ اُخۡرِجۡنَا مِنۡ دِیَارِنَا وَاَبۡنَآئِنَا ؕ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیۡہِمُ الۡقِتَالُ تَوَلَّوۡا اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡہُمۡ ؕ وَاللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ ﴿۲۴۷﴾
Hast thou not heard of the chiefs of the children of Israel after Moses, when they said to a Prophet of theirs: ‘Appoint for us a king that we may fight in the cause of Allah?’ He said: ‘Is it not likely that you will not fight, if fighting is prescribed for you?’ They said: ‘What reason have we to abstain from fighting in the cause of Allah when we have been driven forth from our homes and our sons?’ But when fighting was ordained for them, they turned back except a small number of them. And Allah knows the transgressors well.
کیا تُونے موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے سرداروں کا حال نہیں دیکھا۔ جب انہوں نے اپنے ایک نبی سے کہا کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کر تاکہ ہم اللہ کی راہ میں قتال کریں۔ اس نے کہا۔ کہیں تم ایسے تو نہیں کہ اگر تم پر قتال فرض کیا جائے تو تم قتال نہ کرو۔ انہوں نے کہا آخر ہمیں ہوا کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں قتال نہ کریں جبکہ ہم اپنے گھروں سے نکالے گئے ہیں اور اپنی اولاد سے جدا کئے گئے ہیں۔ پس جب (بالآخر) قتال ان پر فرض کر دیا گیا تو ان میں سے معدودے چند کے سوا سب نے پیٹھ پھیر لی۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔
تفاسیر
وَقَالَ لَہُمۡ نَبِیُّہُمۡ اِنَّ اللّٰہَ قَدۡ بَعَثَ لَکُمۡ طَالُوۡتَ مَلِکًا ؕ قَالُوۡۤا اَنّٰی یَکُوۡنُ لَہُ الۡمُلۡکُ عَلَیۡنَا وَنَحۡنُ اَحَقُّ بِالۡمُلۡکِ مِنۡہُ وَلَمۡ یُؤۡتَ سَعَۃً مِّنَ الۡمَالِ ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰٮہُ عَلَیۡکُمۡ وَزَادَہٗ بَسۡطَۃً فِی الۡعِلۡمِ وَالۡجِسۡمِ ؕ وَاللّٰہُ یُؤۡتِیۡ مُلۡکَہٗ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۴۸﴾
And their Prophet said to them: ‘Allah has appointed for you Talut as a king.’ They said: ‘How can he have sovereignty over us while we are better entitled to sovereignty than he, and he is not given abundance of wealth?’ He said: ‘Surely, Allah has chosen him above you and has increased him abundantly in knowledge and body.’ And Allah gives sovereignty to whom He pleases and Allah is Bountiful, All-Knowing.
اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ یقیناً اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کو ہم پرحکومت کا حق کیسے ہوا جبکہ ہم اس کی نسبت حکومت کے زیادہ حقدار ہیں اور وہ تو مالی و سعت (بھی) نہیں دیا گیا۔ اُس (نبی) نے کہا یقینا اللہ نے اسے تم پر ترجیح دی ہے اور اُسے زیادہ کردیا ہے علمی اور جسمانی فراخی کے لحاظ سے۔ اور اللہ جسے چاہے اپنا ملک عطا کرتا ہے اور اللہ وسعت عطا کرنے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔
تفاسیر
وَقَالَ لَہُمۡ نَبِیُّہُمۡ اِنَّ اٰیَۃَ مُلۡکِہٖۤ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ التَّابُوۡتُ فِیۡہِ سَکِیۡنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَبَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوۡسٰی وَاٰلُ ہٰرُوۡنَ تَحۡمِلُہُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۴۹﴾٪
And their Prophet said to them: ‘The sign of his sovereignty is that there shall be given you a heart wherein there will be tranquillity from your Lord and a legacy of good left by the family of Moses and the family of Aaron — the angels bearing it. Surely, in this there is a Sign for you if you are believers.’
اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ یقیناً اس کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ وہ صندوق تمہارے پاس آئے گا جس میں تمہارے ربّ کی طرف سے سکینت ہو گی، اور (اس چیز کا) بقیہ ہو گا جو موسیٰ کی آل اور ہارون کی آل نے (اپنے پیچھے) چھوڑا۔ اسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ یقیناً اس میں تمہارے لئے (ایک بڑا) نشان ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔
تفاسیر
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوۡتُ بِالۡجُنُوۡدِ ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ مُبۡتَلِیۡکُمۡ بِنَہَرٍ ۚ فَمَنۡ شَرِبَ مِنۡہُ فَلَیۡسَ مِنِّیۡ ۚ وَمَنۡ لَّمۡ یَطۡعَمۡہُ فَاِنَّہٗ مِنِّیۡۤ اِلَّا مَنِ اغۡتَرَفَ غُرۡفَۃًۢ بِیَدِہٖ ۚ فَشَرِبُوۡا مِنۡہُ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّنۡہُمۡ ؕ فَلَمَّا جَاوَزَہٗ ہُوَ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ ۙ قَالُوۡا لَا طَاقَۃَ لَنَا الۡیَوۡمَ بِجَالُوۡتَ وَجُنُوۡدِہٖ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوا اللّٰہِ ۙ کَمۡ مِّنۡ فِئَۃٍ قَلِیۡلَۃٍ غَلَبَتۡ فِئَۃً کَثِیۡرَۃًۢ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۲۵۰﴾
And when Talut set out with the forces, he said: ‘Surely, Allah will try you with a river. So he who drinks therefrom is not of me; and he who tastes it not is assuredly of me, except him who takes a handful of water with his hand.’ But they drank of it, except a few of them. And when they crossed it — he and those who believed along with him — they said: ‘We have no power today against Jalut and his forces.’ But those who knew for certain that they would one day meet Allah said: ‘How many a small party has triumphed over a large party by Allah’s command! And Allah is with the steadfast.’
پس جب طالوت لشکر لے کر روانہ ہوا تو اس نے کہا کہ یقیناً اللہ تمہیں ایک دریا کے ذریعے آزمانے والا ہے۔ پس جس نے اس میں سے پیا اس کا مجھ سے تعلق نہیں رہے گا۔ اور جس نے اسے (سیر ہوکر) نہ پیا تو وہ یقینا میرا ہے سوائے اس کے جو ایک آدھ مرتبہ چُلو بھر کر پی لے۔ پھر بھی معدودے چند کے سوا ان میں سے اکثر نے اس میں سے پی لیا۔ پس جب وہ اُس (دریا) کے پار پہنچا اور وہ بھی جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے تو وہ (نافرمان) بولے کہ آج جالوت اور اس کے لشکر سے نمٹنے کی ہم میں کوئی طاقت نہیں۔ (تب) اُن لوگوں نے جو یقین رکھتے تھے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں کہا کہ کتنی ہی کم تعداد جماعتیں ہیں جو اللہ کے حکم سے کثیر التعداد جماعتوں پر غالب آگئیں۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
Copyright © 2025 Ahmadiyya Muslim Community. All rights reserved.