حضرت محمد رسول اللہﷺ: اُسوۂ حسنہ

خطبہ جمعہ 24؍ جنوری 2025ء

فرمودہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے سریّات کا ذکر

ہو رہا ہے۔ آج اس سلسلہ میں پہلے

سریّہ کُرز بن جابر

کا ذکر کروں گا۔ یہ سریہ شوال چھ ہجری میں عُرَنِیِّیْن کی طرف ہوا۔(طبقات الکبریٰ جلد2 صفحہ71دار الکتب العلمیۃ بیروت)

بعض کے مطابق یہ سریہ سعید بن زید کا تھا لیکن اکثریت کا قول ہے کہ یہ سریہ کرز بن جابر کا تھا اور ایک قول یہ بھی ہے کہ جریر بن عبداللہ کاہے مگر اس قول کی تردید بھی کی گئی ہے۔ جریر بن عبداللہ اس سریہ کے چار سال بعد مسلمان ہوئے تھے۔(سیرت الحلبیہ جلد3صفحہ260دار الکتب العلمیۃ بیروت)

اس سریّہ کا سبب

یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند لوگ آئے۔ بخاری کتاب الجہاد اور کتاب الدیَّات میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ وہ آٹھ آدمی قبیلہ عُکْل اور عُرَینہ میں سے تھے۔ ابن جریر اور ابو عَوَانہ کے نزدیک چار عُرَینہ میں سے تھے اور تین عُکْل میں سے تھے اور آٹھواں آدمی ان دونوں قبیلوں میں سے نہیں تھا۔ اس کا نسب معلوم نہیں ہے۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام کے بارے میں گفتگو کی۔ اور ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے اسلام پر بیعت کر لی اور وہ بیمار تھے۔ ابوعَوَانہ نے بیان کیا ہے کہ وہ بہت کمزور تھے اور ان کے رنگ بہت زیادہ زرد تھے اور ان کے پیٹ بڑھے ہوئے تھے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمیں پناہ دیں اور ہمیں کھانا کھلائی۔ اور وہ مسجد نبوی کے چبوترے میں ٹھہرے تھے۔ پس جب تندرست ہو گئے تو ان کے بدنوں کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔ یعنی بھوک کی وجہ سے جو بیماری تھی اور کمزوری تھی وہ تو دور ہو گئی لیکن عمومی طور پر ان کے مطابق ان کو مدینہ کی آب و ہوا، شہر کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔ ابن اسحاق کے مطابق انہوں نے آب و ہوا کو ناموافق پایا اور کمزور ہو گئے۔ گو بھوک کی کمی کی وجہ سے جو کمزوری تھی، اس سے تو صحت مند ہو گئے لیکن دوسری طرف اَور بیماریاں آ گئیں۔ بہرحال ایک روایت میں ہے کہ مدینہ میں ان دنوں وبا پیدا ہوئی جسے بِرسام کہتے ہیں۔ برسام ایک بیماری ہے جو ذہن کو متاثر کرتی ہے اور سر پر ورم اور سینہ پر ورم کا باعث بنتی ہے۔ وہ کہنے لگے کہ یہ مرض یہاں آ چکی ہے اور مدینہ کی آب و ہوا ہمارے ناموافق ہے۔ ہم مال مویشی والے ہیں اور ہم کھیتی باڑی والے نہیں ہیں۔ ہمارے لیے دودھ کا انتظام کر دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس اَور تو کچھ نہیں ہے مگر تم دودھ والی اونٹنیوں کے پاس چلے جاؤ اور ان کو چراگاہ میں بھیج دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فَیْفَاءُ الخَبَار کے چرواہوںکے پاس جانے کا حکم دیا۔ فَیْفَاءُ الخَبَار مدینہ کے قریب ایک بیابان تھا۔

بہرحال اس روایت سے یہ لگتا ہے کہ وہ زیادہ عرصہ مدینہ میں نہیں رہے بلکہ جلد ہی مدینہ سے باہر چلے گئے اور اونٹنیوں کا دودھ پی کر ان کی صحت بھی بہتر ہو گئی۔

ایک اَور روایت میں بھی یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صدقہ کی اونٹنیوں کے پاس جانے کی رخصت دی کہ وہ ان اونٹنیوں کا دودھ پئیں۔ سو انہوں نے اونٹوں کی طرف نکل کر ان کا دودھ پیا۔ پس

جب تندرست ہو گئے اور ان کے بدن اپنی حالت پر لوٹ آئے اوران کے پیٹ چھوٹے ہو گئے تو اسلام لانے کے بعد کافر ہو کر دودھ والی اونٹنیوں کو ہانک کر لے گئے۔

ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شفقت کا یہ سلوک دوسری طرف ان کا یہ رویہ کہ ٹھیک ہوکےانہوں نے دھوکا دیا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ جب کافر ہو کے دودھ والی اونٹنیوں کو ہانک کے اپنے ساتھ لے گئے تو ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام یَسار اور ان کے چند ساتھیوں نے پا لیا۔ بہرحال ان کو مسلمانوں نے چیلنج کیا۔ پکڑا تو انہوں نے آگے سےلڑائی کی اور انہوں نے بھی قتال کیا ۔چنانچہ یہ جو لوگ آئے تھے اور ڈاکہ ڈال کے یاچوری کر کے اونٹنیاں لے گئے تھے انہوں نے مسلمان جو رکھوالے تھے ان کو بھی قتال کر کے قتل کر دیا۔

پھر وہ لوگ چرواہوں کی طرف مائل ہوئے اور پہلے یسار کو قتل کیا۔ ان لوگوں نے یسار کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ کر ان کی زبان اور آنکھوں میں کانٹے چبھوئے یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔

اور پھر باقی چرواہوں کو بھی قتل کر دیا۔ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہاکہ انہوں نے میرے ساتھی کو قتل کر دیا ہے۔ ایک ان میں سے بچ گیا تھا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا اور یہ کہا کہ وہ لوگ اونٹوں کو لے کر چلے گئے ہیں۔

محمد بن عمر کی روایت ہے کہ بنو عَمرو بن عَوف کی ایک عورت اپنے گدھے پر سوار ہو کر ادھر کو آئی اور یَسَار کے پاس سے گزری جو کہ درخت کے نیچے پڑا تھا۔ جب وہ اس کے پاس سے گزری تو وہ فوت ہو چکے تھے۔ وہ اپنی قوم کی طرف لوٹی اور اس کواس واقعہ کی خبر دی۔ پس وہ لوگ بھی نکلے یہاں تک کہ یَسَار کو مردہ حالت میں اٹھا کر قبُا کی طرف لے آئے۔

صحیح مسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے بیس نوجوان موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھیجا ۔ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قدموں کے نشانات پر بیس شہسواروں کو بھیجا ۔ یعنی جب وہ لے کے چلے گئے تھے اور آپ کو خبر پہنچی تو آپؐ نے ان کے پیچھے بیس آدمیوں کو پکڑنے کے لیے بھیجا۔ ان میں سے چند کے نام بھی لکھے ہوئے ہیں۔ جن میں سَلَمہ بن اَکْوَعْ، ابو رُھم، ابوذَر غِفَاری، بُرَیْدَہ بن حُصَیب، رافع بن مَکِیْث اور ان کے بھائی جُنْدُبْ، بلال بن حارث، عبداللہ بن عمرو بن عوف مُزَنِی، جُعَال بن سُرَاقَہ ثَعْلَبِی، سُوَیدِ بنِ صَخْر جُہَنِی۔ یہ سب مہاجرین میں سے تھے اور ان پر کُرز بن جابر فِہْرِی کو امیر بنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دشمن کے تعاقب میں بھیجا۔ ان کے ساتھ ایک کھوج لگانے والے کو بھی بھیجا جو ان کے نشانات کا کھوج لگاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دشمنوں پر بددعا کی اور فرمایا کہ اے اللہ !ان کو راستے سے اندھا بنا دے اور اسے ان کے لیے اونٹ کی کھال سے بھی تنگ بنا دے۔ یعنی وہ سفر نہ کر سکیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو راستے سے اندھا کر دیا۔ چنانچہ وہ اسی دن پکڑے گئے۔ جب دن چڑھا تو ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ یہ جو بیس آدمی گئے تھے ان کو پکڑ کر لے آئے۔ ایک روایت میں ہے کہ کرز بن جابر اور اس کے ساتھی ان کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ ان کو رات ہو گئی ۔چنانچہ انہوں نے رات حَرَّہ میں گزاری۔ پھر انہوں نے صبح کی اور وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ لوگ کدھر گئے ہیں تو اچانک ایک عورت اونٹ کے شانے کو اٹھائے ہوئے تھی۔ چنانچہ انہوں نے اس کو پکڑا اور اس عورت سے پوچھا یہ کیا ہے؟ عورت کہنے لگی کہ میں ایک قوم کے پاس سے گزری ہوں انہوں نے اونٹ ذبح کیا ہوا تھا، انہوں نے مجھے یہ شانہ دیا ہے اور وہ اس جنگل میں ہیں۔ اس کو بھی کچھ گوشت کا ٹکڑا، ایک ٹانگ کی ران کا اوپر کا حصہ دیا تھا۔ وہ کہنے لگی کہ جب تم ان کو دیکھو گے تو ان کا دھواں نظر آئے گا۔ جہاں وہ بیٹھے ہوئے ہیں وہاں دھواں اٹھ رہا ہو گا۔

پس صحابہ چل پڑے یہاں تک کہ ان کے پاس اس وقت آئے جب وہ کھانے سے فارغ ہوچکے تھے۔ صحابہؓ نے ان سے اپنے آپ کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تو سب قیدی ہو گئے اور ان میں سے کوئی ایک بھی باقی نہ رہا۔ پس صحابہ ؓنے ان کو باندھ لیا اور ان کو اپنے پیچھے گھوڑوں پر بٹھا کر مدینہ لے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رِغَابَہ نامی جگہ میں تشریف فرما تھے۔ یہ رِغَابَہ جُرُفْ سے متصل ایک جگہ ہے اور جُرُف مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر تھا۔ بہرحال وہ ان کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ان کے پیچھے چند لڑکوں کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو وادی رِغَابَہ میں پانی کے بہاؤ کے جمع ہونے کی جگہ پر ملے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلائیاں لانے کا حکم دیا۔ وہ گرم کی گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سلائیوں کو ان کی آنکھوں میں پھیرا کیونکہ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ایک طرف کے ہاتھ کاٹے اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر کر ان کو دھوپ میں ڈال دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ ایک روایت میں ہے ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیری گئی اور ان کو دھوپ میں ڈال دیا گیا۔ وہ پانی مانگتے تھے ان کو پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان میں سے ایک کو دیکھا کہ وہ پیاس کی وجہ سے اپنے منہ سے زبان کو چاٹ رہا تھا تا کہ وہ ٹھنڈک پائے اس سے جو وہ سخت گرمی اور دھوپ پا رہا تھا یہاں تک کہ وہ مرگئے اور ان کا خون روکنے کے لیے ان کو داغا نہیں گیا، ان کا علاج نہیں کیا گیا۔ ابوقِلَابَہ نے بیان کیا ہے کہ یہی لوگ تھے جنہوں نے قتل بھی کیا،چوری بھی کی اور اسلام لانے کے بعد کافر ہو گئے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔

ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ عُرَنِیِّیْن کا یہ قصہ حدود کا حکم اترنے سے پہلے رونما ہوا تھا۔ بہرحال یہ سب کچھ ہوا۔ بظاہر لگتا ہے کہ مسلمانوں نے بڑا ظلم کیا لیکن بہرحال جو اسلامی تعلیم تھی وہ بعد میں نازل ہوئی اور وہ یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا اَنۡ یُّقَتَّلُوۡۤا اَوۡ یُصَلَّبُوۡۤا اَوۡ تُقَطَّعَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ اَرۡجُلُہُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ اَوۡ یُنۡفَوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ ذٰلِکَ لَہُمۡ خِزۡیٌ فِی الدُّنۡیَا وَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ (المائدہ : 34) یعنی ان لوگوں کی جزا جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں یہ ہے کہ انہیں سختی سے قتل کیا جائے یا دار پر چڑھایا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیےجائیں یا انہیں دیس نکالا دے دیا جائے۔ یہ ان کے لیے دنیا میں ذلت اور رسوائی کا سامان ہے اور آخرت میں تو ان کے لیے بڑا عذاب مقدر ہے۔

پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد کسی کی آنکھ میں سلائی نہ پھیری اور نہ ہی کسی کی زبان کاٹی اور نہ ہاتھ اور پاؤں کاٹنے سے زیادہ کوئی سزادی اور

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس لشکر کو بھی بھیجا ان کو مُثلہ سے منع فرمایا اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کی ترغیب دیتے تھے اور مُثلہ سے روکتے تھے۔

محمد بن عمر واقدی اور ابن سعد بیان کرتے ہیں کہ پندرہ اونٹنیاں تھیں جن کو وہ چراگاہ سے لے گئے تھے۔(سبل الھدیٰ والرشاد جلد6 صفحہ 115 تا 117، 122 دار الکتب العلمیۃ بیروت)(صحیح مسلم کتاب القسامۃ والمحاربین باب حکم المحاربین و المرتدین حدیث 3150 جلد9 صفحہ 13، نور فاؤنڈیشن)(معجم البلدان از ڈاکٹر غلام جیلانی برق صفحہ263)(فرہنگ سیرت صفحہ87 زوار اکیڈمی کراچی)

بہرحال

یہ دشمنوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا اس لیے ان کا بدلہ ان سے اسی طرح لیا گیا جو انہوں نے کیا تھا اور وہی سزا دی گئی لیکن بعد میں اسلامی تعلیم کے مطابق پھر کبھی دشمنوں سے ایسا سلوک نہیں ہوا۔

گو یہ اس کا جواب ہے لیکن اس کا کچھ تفصیلی جواب اور

بعض لوگوں کے اعتراض جو اسلام پہ اعتراض کرنے والے کرتے ہیں کہ دشمنوں سے کیوں ایسا ظالمانہ سلوک کیا اس کا جواب حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے سیرت خاتم النبیینؐ میں بڑا اچھا دیا ہے۔

آپؓ لکھتے ہیں کہ ’’مسلمانوں کے لیے یہ دن بہت خطرناک تھے کیونکہ قریش اور یہود کی انگیخت سے سارا ملک ان کی عداوت کی آگ سے شعلہ زن ہو رہا تھا۔ اور اپنی جدیدپالیسی کے ماتحت انہوں نے یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ مدینہ پر باقاعدہ حملہ کرنے کی بجائے درپردہ طریقوں سے نقصان پہنچایا جائے اور چونکہ دھوکا دہی اور غداری عرب کے وحشی قبائل کے اخلاق کاحصہ تھی اس لیے وہ ہرجائز وناجائز طریق سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے تھے۔ چنانچہ جس واقعہ کاذکرہم اب کرنے لگے ہیں۔‘‘ اسی واقعہ کو بیان کیا ہے۔ ’’وہ اسی ناپاک سلسلہ کی ایک کڑی تھی جو ایک ہولناک رنگ میں اپنے انجام کو پہنچی۔‘‘ پھر آپؓ لکھتے ہیں کہ’’ تفصیل اس کی یہ ہے کہ شوال 6ھ میں قبیلہ عُکْل اورعُرَیْنَہ کے چند آدمی جوتعداد میں آٹھ تھے۔ مدینہ میں آئے اور اسلام کے ساتھ محبت اور موانست کااظہار کرکے مسلمان ہو گئے۔ کچھ عرصہ کے قیام کے بعد انہیں مدینہ کی آب وہوامیں معدہ اورتلی وغیرہ کی جو کچھ شکایت پیدا ہوئی تو وہ اسے بہانہ بناکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی تکلیف بیان کرکے کہا کہ یارسول اللہ! ہم جنگلی لوگ ہیں اور جانوروں کے ساتھ رہنے میں عمرگزاری ہے اور شہری زندگی کے عادی نہیں اس لیے بیمار ہو گئے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہیں یہاں مدینہ میں تکلیف ہے تو مدینہ سے باہر جہاں ہمارے مویشی رہتے ہیں وہاں چلے جاؤ۔‘‘مہمان نوازی کا حق ادا کیا۔ شفقت کا سلوک فرمایا۔’’ اوراونٹوں کا دودھ وغیرہ پیتے رہو۔ اچھے ہوجاؤگے‘‘وہاں صحت مند جگہ پہ رہ کے۔’’اور ایک روایت میں یہ ہے کہ انہوں نے خود کہا کہ یارسول اللہ! اگرآپ ہمیں اجازت دیں تو ہم مدینہ سے باہر جہاں آپ کے مویشی رہتے ہیں وہاں چلے جاتے ہیں جس کی آپؐ نے اجازت دے دی۔ بہرحال وہ آنحضرت ؐسے اجازت لے کر مدینہ سے باہر اس چراگاہ میں چلے گئے جہاں مسلمانوں کے اونٹ رہتے تھے۔

جب ان بدبختوں نے یہاں اپنا ڈیرا جما لیا اور آگے پیچھے نظرڈال کر سارے حالات معلوم کر لیے اور کھلی ہوا میں رہ کر اور اونٹوں کا دودھ پی کر خوب موٹے تازے ہو گئے تو ایک دن اچانک اونٹوں کے رکھوالوں پرحملہ کرکے انہیں مار دیا اور مارا بھی اس بے دردی سے کہ پہلے تو جانوروں کی طرح ذبح کیا اور پھر جب ابھی کچھ جان باقی تھی توان کی زبانوں میں صحرا کے تیز کانٹے چبھوئے تا کہ جب وہ منہ سے کوئی آواز نکالیں یا پیاس کی وجہ سے تڑپیں تویہ کانٹے ان کی تکلیف کو اَور بھی بڑھاویں۔ اور پھر ان ظالموں نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ گرم سلائیاں لے کر ان نیم مردہ مسلمانوں کی آنکھوں میں پھیریں۔ اور اس طرح یہ بے گناہ مسلمان کھلے میدان میں تڑپ تڑپ کرجان بحق ہو گئے۔ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاایک ذاتی خادم بھی تھا جس کا نام یسار تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے چرانے پر مقرر تھا۔

جب یہ درندے اس وحشیانہ رنگ میں مسلمانوں کاکام تمام کر چکے تو پھر سارے اونٹوں کو اکٹھا کر کے انہیں ہنکا لے گئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ حالات ایک رکھوالے نے پہنچائے جو اتفاق سے بچ کر نکل آیا تھا جس پر آپؐ نے فوراً بیس صحابہؓ کی ایک پارٹی تیار کرکے ان کے پیچھے بھجوادی اور گو یہ لوگ کچھ فاصلہ طے کر چکے تھے مگر خدا کایہ فضل ہوا‘‘ یعنی کہ دشمن جو تھا وہ فاصلہ طے کرچکا تھا مگر خدا کا یہ فضل ہوا ’’کہ مسلمانوں نے پھرتی کے ساتھ پیچھا کرکے انہیں جا پکڑا اور رسیوں سے باندھ کر واپس لے آئے۔ اس وقت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ احکام نازل نہیں ہوئے تھے کہ اگر کوئی شخص اس قسم کی حرکت کرے تواس کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہئے ۔چنانچہ

آپؐ نے اپنے قدیم اصول کے ماتحت کہ جب تک اسلام میں کوئی نیا حکم نازل نہ ہو اہل کتاب کے طریق پر چلنا چاہئے۔ ‘‘اسی طرح کرتے تھے۔ ’’موسوی شریعت کے مطابق حکم دیا کہ جس طرح ان ظالموں نے مسلمان رکھوالوں کے ساتھ سلوک کیا ہے اسی طرح قصاصی اور جوابی صورت میں ان کے ساتھ کیا جائے۔‘‘

یہ حضرت موسیٰ ؑکی تعلیم تھی۔ اسی پہ عمل ہوتا تھا جب تک شریعت کے احکامات پوری طرح نہیں آئے۔ بہرحال یہ اس لیے کیا ’’تاکہ یہ سزا دوسروں کے لیے عبرت ہو۔ چنانچہ خفیف تغیر کے ساتھ اسی رنگ میں مدینہ سے باہر کھلے میدان میں ان لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ مگر

اسلام کے لیے خدا نے دوسری تعلیم مقدر کررکھی تھی۔چنانچہ آئندہ کے لیےجوابی اورقصاصی صورت میں بھی مُثلہ کی سزا منع کردی گئی یعنی اس بات کو ناجائز قرار دیا گیا کہ کسی رنگ میں مقتول کے جسم کو بگاڑا جائے یا انتقامی رنگ میں اعضا کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے وغیرہ ذالک۔

اس واقعہ کے متعلق‘‘آپؓ لکھتے ہیں کہ ’’ہمیں کچھ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ بہرحال

اس معاملہ میں ظلم کی ابتداء کفار کی طرف سے تھی جنہوں نے بغیر کسی جائز وجہ کے محض اسلام کی عداوت میں بے گناہ مسلمانوں کے ساتھ اس قسم کا ظالمانہ اور وحشیانہ سلوک کیا اور جو کچھ ان کی سزا میں کیا گیا وہ محض قصاصی اور جوابی تھا۔‘‘

یعنی جو کچھ دشمنوں کو سزا دی گئی وہ قصاص تھا ’’اور تھا بھی ایسے حالات میں جب کہ اسلام کے خلاف سارا ملک دشمنی اور عداوت کی آگ سے بھڑک رہا تھا۔ اور پھر یہ فیصلہ بھی موسوی شریعت کے مطابق کیا گیا تھا لیکن پھر بھی اسلام نے اسے برقرار نہیں رکھا اور آئندہ کے لیے ایسے طریق سے منع کر دیا۔ ان حالات میں کوئی عقل مند اس پر اعتراض نہیں کر سکتا۔ اس موقع پر

یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ لوگ شروع سے ہی بری نیت کے ساتھ مدینہ میں آئے تھے اور غالباً اپنے قبیلہ کے سکھائے ہوئے تھے کہ تا مسلمانوں میں رہ کر انہیں نقصان پہنچائیں اور ممکن ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھی ان کا کوئی برا ارادہ ہو مگر جب مدینہ میں رہ کر انہیں کوئی موقع نہیں ملا تو انہوں نے یہ تجویز کی کہ مدینہ سے باہر نکل کر کارروائی کی جاوے۔

ان کی اس نیت کا اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے چرواہوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ خالی چوروں اور لٹیروں والا سلوک نہیں تھا بلکہ سراسر منتقمانہ رنگ رکھتا تھا۔ اگر وہ ابتدا میں سچے دل سے مسلمان ہوئے تھے اور بعد میں اونٹ دیکھ کر ان کی نیت بدل گئی تواس صورت میں ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ اونٹ لے کر بھاگ جاتے اور اگر کوئی رکھوالا روک بنتا تو زیادہ سے زیادہ اسے مار کر نکل جاتے مگر جس رنگ میں انہوں نے مسلمان چرواہوں کو قتل کیا اور اپنے آپ کوخطرہ میں ڈال کر قتل کے سفاکانہ فعل کو لمبا کیا‘‘ وہاں کچھ دیر تک رہے ’’اور عذاب دے دےکر مارا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کایہ فعل اتفاقی لالچ کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ سراسر معاندانہ رنگ رکھتا تھا اور دلی کینہ اور لمبے بغض کا نتیجہ تھا۔ اور

ان کے اس ظالمانہ فعل کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کیا
وہ محض قصاصی اور جوابی تھا جو اسلامی احکام کے نزول سے پہلےموسوی شریعت کے مطابق کیا گیا لیکن اس کے بعد جلد ہی اسلامی احکام نازل ہوگئے اوراس قسم کی تعذیب انتقامی رنگ میں بھی ناجائز قراردے دی گئی ۔

چنانچہ بخاری کے الفاظ یہ ہیں

اَنَّ النَّبِّیَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذٰلِکَ کَانَ یَحُثُّ عَلَی الصَّدَقَۃِ وَیَنْھٰی عَنِ الْمُثْلَۃِ۔

یعنی ’’اس واقعہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم احسان اور حسن سلوک کی تاکید فرمایا کرتے تھے اور ہرحال میں دشمنوں کے جسموں کے مُثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔‘‘

بعض مغربی محققین نے جن میں میور صاحب بھی شامل ہیں۔ اس واقعہ کے حالات کاذکر کرتے ہوئے حسب عادت اعتراض کیا ہے کہ جس رنگ میں ان قاتل ڈاکوؤں کو قتل کیا گیا وہ ظالمانہ اور وحشیانہ تھا لیکن

اگر سارے حالات کو سامنے رکھ کر غورکیا جائے تواس معاملہ میں اسلام کا دامن بالکل پاک نظر آتاہے کیونکہ دراصل یہ فیصلہ اسلام کا نہیں تھا بلکہ حضرت موسیٰ ؑکا تھا۔ جن کی شریعت کو حضرت مسیح ناصریؑ نے منسوخ نہیں کیا بلکہ برقرار رکھا۔

ہاں اگر ہمارے معترضین کے پیش نظر حضرت مسیحؑ کا یہ قول ہے کہ ایک گال پرطمانچہ کھا کر دوسرا گال بھی سامنے کر دو اور اگر کوئی شخص تمہارا کرتہ لینا چاہے تو اسے اپنا چوغہ بھی دے دو اور اگر کوئی تمہیں ایک کوس بیگار لے جانا چاہے تودو کوس چلے جاؤ توبے شک ہمارے معترضین کواس اعتراض کاحق ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعلیم کسی عقل مند کے نزدیک قابل عمل ہے اور کیا آج تک ان ساڑھے انیس سوسالوں میں‘‘ اب تو دو ہزار سال سے اوپر ہو گئے ’’کسی مسیحی مرد یا عورت یا کسی مسیحی جماعت یاحکومت نے اس تعلیم پرعمل کیا ہے؟ منبروں پر چڑھ کر وعظ کرنے کے لیے بیشک یہ ایک عمدہ تعلیم ہے مگر عملی دنیا میں اس تعلیم کو کوئی بھی وزن حاصل نہیں اور نہ کوئی عقل مند اس پر عمل کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں اس قسم کے جذباتی کھلونے سامنے رکھ کر مسلمانوں کو اعتراض کا نشانہ بنانا خود اپنی جہالت کا ثبوت دینا ہے۔ ہاں حضرت موسیٰؑ کی تعلیم کو سامنے رکھ کر دیکھو جو بخلاف حضرت مسیحؑ ایک سچے مقنن تھے اور قانون کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے تھے یا مسیحیوں کے قول کو نہیں بلکہ ان کے عملی کارناموں کی روشنی میں حالات کاامتحان کرو تو پھر حقیقت واضح ہوتی ہے کہ عملی میدان میں کوئی مذہب اسلام کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ جو کچھ کہتا ہے وہی کرتا ہے اور اس کے کھانے کے دانت اور دکھانے کے دانت الگ الگ نہیں ہیں اور اس کے قول وفعل ہردو اس اعلیٰ مقام پرفائز ہیں کہ کوئی عقل مند غیرمتعصب انسان ان پر اعتراض نہیں کر سکتا بلکہ دل سے ان کی تعریف نکلتی ہے۔ نہ تو وہ موسوی شریعت کی طرح یہ کہتا ہے کہ ہر حالت میں انتقام لو اور بلا امتیاز حالات قصاص کا تبر چلاتے جاؤ اور نہ وہ مسیحی تعلیم کے مطابق یہ ہدایت کرتا ہے کہ کسی حالت میں بھی سزا نہ دو بلکہ اگر مجرم کوئی جرم کرے تواس کے جرم کے منشاء کواپنی طرف سے مدد کرکے اور بھی مضبوط کر دو۔ ‘‘سزا نہ دے کے۔ ’’بلکہ اسلام افراط وتفریط کے رستے کو چھوڑ کر وہ وسطی تعلیم دیتا ہے جودنیا میں حقیقی امن کی بنیاد ہے اور وہ یہ کہوَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ (الشوریٰ:41)یعنی ’’ہربدی کی سزا اس کے مناسب حال اور اس کی شدت کے مطابق ہونی چاہئے، لیکن اگرحالات ایسے ہوں کہ معاف کرنے یا نرمی کرنے سے اصلاح کی امید ہو تو پھر معاف کرنا یا نرمی کرنا بہتر ہے اور ایسا شخص خدا کے نزدیک نیک اجر کا مستحق ہو گا ‘‘

یہ وہ تعلیم ہے جو اسلام نے اس بارے میں دی اور کوئی عقل مند اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ ایک بہترین تعلیم ہے جس میں انسانی ضروریات کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا ہے

اور سزا کی صورت میں بھی اسلام نے یہ قید لگا دی ہے کہ وہ مناسب حد سے آگے نہ گزرے اور مُثلہ وغیرہ کے وحشیانہ افعال کو یک قلم بند کردیا گیا۔ اس کے مقابل پرمسیحی لوگ باوجود حضرت مسیح ناصریؑ کی اس نمائشی تعلیم کے جو عملی نمونہ دشمنوں کے ساتھ سلوک کا دکھاتے رہے ہیں اور جنگوں میں جن افعال کے مرتکب ہوتے رہے ہیں‘‘اور ہو رہے ہیں’’وہ تاریخ عالم کا ایک کھلا ہوا ورق ہے جس کے اعادہ کی اس جگہ ضرورت نہیں ۔‘‘(سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ744 تا747)

کیا کچھ نہیں یہ کرتے۔

اب ایک غزوہ کا ذکر کروں گا۔ یہ

غزوہ ذِی قَرَدْ

کہلاتا ہے۔ اس کے متعلق

سیرت نگاروں اور محدثین میں اختلاف ہے کہ یہ کب ہوا۔

محدثین اسے صلح حدیبیہ کے بعد اور غزوہ خیبر سے پہلے ذوالقعدہ چھ ہجری اور محرم سات ہجری کے درمیان کا غزوہ قرار دیتے ہیں اور سیرت نگار اسے غزوہ بَنُولَحْیَان کے بعد یعنی جُمَادی الاولیٰ چھ ہجری کا غزوہ قرار دیتے ہیں۔ امام بخاری اور امام مسلم کے مطابق غزوہ ذِی قَرَدْ غزوہ خیبر سے تین دن پہلے ہوا اور انہوں نے اس کا ذکر صلح حدیبیہ کے بعد اور خیبر سے پہلے کیا ہے۔ علامہ ابن حجر نے لکھا ہے کہ امام احمد اور امام مسلم نے اِیَاسْ بن سَلَمہ سے جو روایت بیان کی ہے وہ اس بات کی تائید کرتی ہے کہ یہ غزوہ خیبر سے تین دن پہلے ہوا۔ اس روایت میں حضرت سَلَمہ بن اَکْوَعْؓ نے پہلے صلح حدیبیہ اور پھر ذی قرد کا واقعہ بیان کیا۔ پھر آخر میں کہا کہ اس کے بعد ہم مدینہ واپس آئے اور ابھی تین دن ہی مدینہ میں ٹھہرے تھے کہ خیبر کے لیے روانہ ہو گئے۔ اس کے برعکس سیرت نگاروں میں سے علامہ ابن اسحاق اور ابن سعد کہتے ہیں کہ غزوہ ذی قرد چھ ہجری میں صلح حدیبیہ سے پہلے ہوا تھا۔(سبل الھدیٰ و الرشاد جلد 5 صفحہ 106، دار الکتب العلمیۃ بیروت)(السیرۃ النبویۃ لابن کثیر صفحہ 365، 375 مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)(شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ جلد 3 صفحہ 109 دار الکتب العلمیۃ بیروت)

اس کا تجزیہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے پوری طرح تو نہیں کیا لیکن اس طرح کیا ہے کہ اپنی کتاب کے بقیہ حصہ کے لیے جو عنوان درج کیےہیں اس میں آپؓ نے غزوہ ذِی قَرَد کو غزوہ خیبر سے پہلےمحرم سات ہجری کا غزوہ قرار دیا ہے۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ 837)

غزوہ ذی قرد کو غزوہ غَابَہ بھی کہا جاتا ہے
کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں یہاں چرا کرتی تھیں۔

غَابَہ مدینہ سے شام کی طرف چار میل کے فاصلے پر احد پہاڑکی پشت پر ایک میدان تھا اور اسے غزوہ ذی قَرَد اس لیے کہتے ہیں کہ عُیَیْنَہ بن حِصْن جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں حملہ کر کے لے گیا تھا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قرد تک اس کا پیچھا کیا۔ ذی قرد مدینہ سے تقریباً بارہ میل کے فاصلے پر ایک چشمہ ہے۔(ماخوذ ازشرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ جلد 3 صفحہ 109 دار الکتب العلمیۃ بیروت)(فرہنگ سیرت صفحہ 217،56زوار اکیڈمی کراچی)

اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیس دودھ دینے والی اونٹنیاں تھیں۔ کچھ اور اونٹ وغیرہ بھی شامل تھے۔ جو مدینہ سے خیبر کے رستے پر بَیْضَاء کی چراگاہ اور بیضاء سے پرلے پہاڑ تک چرتی تھیں۔ وہاں قحط سالی ہو گئی تو انہیں غابہ کی طرف لے آیا گیا۔ ایک چرواہا روزانہ مغرب کے وقت ان کا دودھ دوہ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا کرتا تھا۔(سبل الھدیٰ و الرشاد جلد 5صفحہ 95دار الکتب العلمیۃ بیروت)(سیرت انسائیکلوپیڈیا جلد 7 صفحہ 463 دار السلام ریاض)

عُیَیْنَہ بن حِصْن فزاری نے بنو غَطَفَان کے چالیس گھڑ سواروں کے ساتھ ان پر حملہ کر دیا اور اونٹنیاں لے گئے۔ ایک روایت کے مطابق ان کا سردار عُیَیْنَہ کا بیٹا عبدالرحمٰن تھا اور عُیَیْنَہ ان کی مدد کے لیے پیچھے ایک جگہ پر موجود رہا۔ حملہ کے دوران دشمن نے حضرت ابوذرؓ کے بیٹے ذَر کو قتل کر دیا جو ان اونٹنیوں کا چرواہا تھا اور حضرت ابوذر ؓکی بیوی لیلیٰ کو قید کر کے لے گئے جبکہ حضرت ابوذرؓ کے بیٹے کی بیوی بھی وہیں موجود تھی دشمن سے بچ گئی۔(شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ جلد 3 صفحہ 111، 112 دار الکتب العلمیۃ بیروت)(سبل الھدیٰ و الرشاد جلد 5 صفحہ 95دار الکتب العلمیۃ بیروت)

عُیَیْنَہ بن حصن کون تھا ؟

اس کے تعارف میں لکھا ہے کہ عُیَیْنَہ غزوہ احزاب کے موقع پر قبیلہ بنو فَزَارَہ کا سردار تھا۔ غزوہ احزاب کے دوران جب کفار کے تین لشکروں نے بنو قریظہ سے مل کر مدینہ پر زبردست حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو ان میں سے ایک لشکر کا سردار عُیَیْنَہ تھا۔(حضرت سیدنا ابوبکرصدیقؓ از محمد حسین ہیکل صفحہ139مطبع بک کارنر شوروم)

عُیَیْنَہ بن حِصْن نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ عُیَیْنَہ نے فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کیا اور اس میں شرکت کی۔اور غزوہ حنین اور طائف میں بھی شرکت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بنو تمیم کی سرکوبی کے لیے پچاس سواروں کے ساتھ بھیجا تھا۔ اس میں کوئی بھی انصار یا مہاجر صحابی نہ تھا اور اس سریہ کا سبب یہ ہوا تھا کہ بنو تمیم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل کو صدقات لے کر جانے سے روک دیا تھا۔ پھر عہد صدیقی میں باغی مرتدوں کے ساتھ یہ بھی فتنہ ارتداد کا شکار ہو گیا اور طلیحہ نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو اس کے ساتھ مل گیا۔ یہ پہلے مسلمان ہوا پھر دوبارہ مرتد ہو گیا اور اس کی بیعت کرلی۔پھر بعد میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس قید ہو کر آیا تو آپ نے اس پر احسان کرتے ہوئے معاف فرما دیا اور اس نے پھر دوبارہ اسلام قبول کر لیا۔(السیرۃ الحلبیہ جلد2 صفحہ376دار الکتب العلمیۃ بیروت)(الاصابہ فی تمییز الصحابہ جزء4صفحہ639دار الکتب العلمیۃ بیروت)( ماخوذاز ضیاء النبیؐ جلد4صفحہ566-567مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکیشنز لاہور)

اس کے ایمان کی ایسی ویسی حالت ہی رہی تھی۔ روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر غفاری ؓکو غَابَہ جانے سے روکا تھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ کے باوجود حضرت ابوذر غفاریؓ غابہ گئے اور اس کی تفصیل میں لکھا ہے کہ عُیَیْنَہ کے حملے سے پہلے حضرت ابوذرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹنیوں کی چراگاہ کی طرف جانے کی اجازت مانگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارے متعلق خطرہ ہے کہ دشمن تم پر اس جانب سے حملہ آور نہ ہو جائے کیونکہ ہم عُیَیْنَہ اور اس کے ساتھیوں سے امن میں نہیں ہیں اور یہ جگہ بھی ان کی جانب ہے۔ حضرت ابوذرؓ نے اصرار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے خدشہ ہے کہ تمہارا بیٹا قتل اور تمہاری بیوی گرفتار کرلی جائے گی اور تم ایک عصا کا سہارا لیے ہوئے آؤ گے۔ حضرت ابوذر ؓکہتے ہیں کہ تعجب ہے مجھ پہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ مجھے تمہارے متعلق خدشہ ہے اور میں پھر بھی اصرار کرتا رہا۔ پھر اللہ کی قسم! ایسا ہی ہوا جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ میں گھر میں تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں باڑے میں واپس لائی جا چکی تھیں۔ انہیں سیراب کیا جا چکا تھا یعنی پانی خوراک دیا جا چکا تھا۔ ان کا دودھ دوہا جا چکا تھا۔ پھر ہم سو گئے تو رات کے وقت عُیَیْنَہ نے چالیس سواروں کے ساتھ ہم پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے رک کر آواز دی تو میرا بیٹا باہر نکلا جسے انہوں نے قتل کر دیا۔(سبل الھدیٰ و الرشاد جلد 5 صفحہ 95دار الکتب العلمیۃ بیروت)

اس حوالے سے حضرت سَلَمہ بن اَکْوَعْ ؓ کا دشمن کے تعاقب میں نکلنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔

بخاری میں ہے کہ حضرت سَلَمہ بن اَکْوَعْؓ بیان کرتے ہیں کہ میں فجر کی پہلی اذان دیےجانے سے پہلے نکلا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دودھیل اونٹنیاں ذی قَرَد مقام میں چرتی تھیں۔ حضرت سَلَمہؓ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام رَبَاح بھی تھا۔ حضرت سَلَمہ ؓکہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف کا ایک لڑکا مجھے ملا۔ اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں لے لی گئی ہیں۔ میں نے کہا کہ انہیں کون لے گیا ہے؟ اس نے کہا کہ غطفان والے۔ انہوں نے، یعنی حضرت سَلَمہؓ نے کہا کہ میں نے تین بار آواز بلند کر کے یَا صَبَاحَاہُکہا۔ یہ الفاظ خطرے کے وقت بولے جاتے تھے۔ تو میں نے اونچی آواز سے انہیں سنا دیا جو مدینہ میں تھے تاکہ وہاں پہنچ جائے۔ ان کی آواز کافی بلند تھی اور رَبَاح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دینے کے لیے بھیج دیا۔ پھر کہتے ہیں میں آگے کی طرف تیزی سے دوڑا یہاں تک کہ ان حملہ آور ڈاکوؤںکو جا لیا اور وہ اپنے جانوروں کو پانی پلانے لگے تھے۔ میں اپنے تیروں سے انہیں مارنے لگا اور میں ماہر تیر انداز تھا۔ مَیں کہتا: مَیں ابنِ اَکْوَعْ ہوں اور آج صرف کم ظرف لوگوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ اکیلے ہی مقابلے کے لیے نکل گئے۔ اور میں یہ بلند آواز سے پڑھتا جاتا تھا۔ جب میں درختوں میں ہوتا تو ان کو تیر مارتا اور جب تنگ گھاٹیاں آ جاتیں تو پہاڑ پر چڑھ کر ان پر پتھر پھینکتا یہاں تک کہ ان سے تمام اونٹنیاں چھڑا لیں۔

صحیح مسلم میں یہ الفاظ ہیں کہ میں اسی طرح ان کا پیچھا کرتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں میں سے کوئی اونٹ ایسا پیدا نہیں کیا جسے میں نے اپنے پیچھے نہ چھوڑ دیا ہو اور ان سے تیس چادریں بھی چھین لیں جو انہوں نے بوجھ کم کرنے کے لیے بھاگتے ہوئے پھینک دی تھیں۔ جو چیز بھی وہ پھینکتے جاتے تھے میں ان پر نشان کے طور پر پتھر رکھ دیتا تھا تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ پہچان لیں اور ان کا پیچھا کرتا رہا اور پھر ان پر تیر اندازی کرتا رہا۔ اکیلے ہی مقابلہ کرتے رہے۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوہ ذات قرد وھی غزوات التی اغارو فیھا … حدیث: 4194)(صحیح مسلم مترجم کتاب المغازی حدیث 3358جلد 09 صفحہ 227-228، 233حاشیہ، نور فاؤنڈیشن)(ماخوذ از سبل الھدیٰ و الرشاد جلد 5 صفحہ97،96 دار الکتب العلمیۃ بیروت)(غزوات و سرایا از علامہ محمد اظہر فرید شاہ صفحہ 305-306فریدیہ پبلشرز ساہیوال)

تاریخ اور سیرت اور حدیث کی دوسری شروحات کے مطابق یہ بھی لکھا ہے کہ تمام اونٹنیاں واپس نہیں لی جا سکی تھیں۔ کچھ اونٹنیاں دشمن اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔(ماخوذ از سبل الھدیٰ و الرشاد جلد 5صفحہ 107دار الکتب العلمیۃ بیروت)

بہرحال دوسری طرف

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اس واقعہ کی خبر پہنچی تو مدینہ میں اعلان کیا گیا کہ خطرے کی گھڑی ہے۔

چنانچہ منادی کروا دی گئی یَا خَیْلَ اللّٰہِ ارْکَبِیْ یعنی اے اللہ کے شہسوارو! سوار ہو جاؤ۔ اسی وقت گھڑسوار آپ کے پاس جمع ہونے لگے۔ سب سے پہلے حضرت مقدادؓ آپؐ کے پاس آئے پھر حضرت عَبَّاد بن بِشرؓ، سعد بن زیدؓ، اُسَید بن حُضَیرؓ، عُکَّاشہؓ، مُحْرِزْ بن نَضْلَہؓ، ابوقتادہؓ اور ابو عَیَّاشؓ بھی پہنچ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن زید ؓکو امیر بنایا اور فرمایا: دشمن کے تعاقب میں نکلو یہاں تک کہ میں بھی لوگوں کے ساتھ تم سے آ ملوں ۔ آپؐ نے فرمایا: تم لوگ آگے آگے جاؤ میں پیچھے پیچھے آ رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ سو صحابہ کے ساتھ روانہ ہوئے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سات سو کے ساتھ روانہ ہوئے۔ آپؐ نے مدینہ پر حضرت ابنِ اُمِّ مکتوم ؓکو اپنا نائب مقرر فرمایا اور حضرت سعد بن عُبادہ ؓکو تین سو صحابہ کے ساتھ مدینہ کی حفاظت کے لیے پیچھے رکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مقداد بن اسود ؓکے نیزے پر جھنڈا باندھا۔(شرح العلامہ الزرقانی علی المواھب اللدنیہ جلد 3 صفحہ 113دار الکتب العلمیۃ بیروت)(سبل الھدیٰ والرشاد جلد 5 صفحہ 96، 97دار الکتب العلمیۃ بیروت)

اس مہم میں ایک واقعہ کا ذکر یوں ملتا ہے

کہ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ابوعَیَّاش !کیا تم اپنا گھوڑا کسی ایسے شخص کو نہیں دیتے جو تم سے بہتر سوار ہے تا کہ وہ دشمن سے جا ملے۔ حضرت ابو عیاش ؓنے کہا کہ اے اللہ کے رسولؐ !میں سب سے اچھا سوار ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہہ دیا اور پھر میں نے گھوڑے کو ایڑھ لگائی لیکن ابھی پچاس گز ہی چلا تھا کہ اس نے مجھے زمین پہ گرا دیا۔ مجھے حیرانی ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ گھوڑا اپنے سے بہتر سوار کو دے دو اور میں کہہ رہا تھا کہ میں سب سے بہتر گھڑ سوار ہوں۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعیاشؓ کا یہ گھوڑا حضرت مُعَاذ بنِ مَاعِصؓ کو دے دیا۔(سبل الھدیٰ و الرشاد جلد 5 صفحہ 97، 98دار الکتب العلمیۃ بیروت)

حضرت سَلَمہؓ جو دشمن کا پیچھا کر رہے تھے بیان کرتے ہیں کہ جب دن چڑھ آیا تو عُیَیْنَہ ان کی مدد کے لیے آیا ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عُیَیْنَہ خود یہاں موجود تھا۔ وہ ایک تنگ گھاٹی میں تھا۔ کہتے ہیں میں پہاڑ پر چڑھ گیا۔ عُیَیْنَہ نے کہا یہ کون ہے؟ عُیَیْنَہ کے ساتھیوں نے اسے کہا کہ صبح سے لے کر ابھی تک ہم اس مصیبت میں ہیں۔ یہ ہمارا پیچھا کر رہا ہے۔ ہم پر تیر اندازی کر رہا ہے اور اپنے جانور چھڑا رہا ہے۔ اس نے ہماری سب چیزیں چھین لی ہیں۔ عُیَیْنَہ نے کہا کہ اگر اس کو یہ یقین نہ ہوتا کہ اس کے پیچھے لوگ آرہے ہیں تو تمہیں کبھی کا چھوڑ گیا ہوتا۔ ہوشیار تھا۔ اس نے کہا یقیناً ان کے پیچھے اَور کوئی فوج آ رہی ہے۔ تم میں سے چند آدمی اس کی طرف جاؤ۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو کہا ۔چنانچہ ان میں سے چار آدمی میری طرف آئے اور پہاڑ پر چڑھے۔ میں نے ان سے کہا کہ تم مجھے جانتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ تم کون ہو؟ میں نے کہا میں ابنِ اَکْوَعْ ہوں۔ اس ذات کی قسم !جس نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت بخشی ہےتم میں سے کوئی شخص مجھے پکڑ نہیں سکتا اور اگر میں اس کا تعاقب کروں تو وہ مجھ سے بچ نہیں سکتا۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا میرا بھی یہی خیال ہے۔ پھر وہ ڈر کے واپس چلے گئے۔ بخاری کی یہ روایت ہے۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوہ ذات قرد وھی غزوات التی اغارو فیھا …حدیث: 4194)(سبل الھدیٰ و الرشاد جلد 5 صفحہ 96دار الکتب العلمیۃ بیروت)

حضرت سَلَمہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اس جگہ رہا حتی کہ میں نے رسول اللہﷺکے شہسواروں کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سے پہلے روانہ فرمائے تھے دیکھ لیا جو درختوں میں سے نمودار ہوئے تھے۔ وہ کہتے ہیں ان میں سے سب سے پہلے مُحْرِز بن نَضْلَہ اَخْرَمْ اَسَدِی تھے اور ان کے پیچھے ابوقتادہ انصاریؓ اور پیچھے مقداد بن اسودؓ تھے۔ جوبعد میں آئے۔ میں نے اخرم کے گھوڑے کی لگام پکڑی۔ میں نے کہا اے اخرم! تو ان سے بچ تا کہ وہ تجھے ہلاک نہ کر دیں۔ ابھی آگے نہ جاؤ۔ ذرا انتظار کرو یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ ؓپہنچ نہ جائیں۔ اس نے کہا کہ اے سَلَمہ! اگر تُو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور تُو جانتا ہے کہ جنت حق ہے اور آگ، جہنم حق ہے۔پس تو میرے اور شہادت کے درمیان حائل نہ ہو۔ بڑی جرأت سے انہوں نے بات کی ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے اسے چھوڑ دیا۔ کہتے ہیں کہ یہاں تک کہ حضرت اخرمؓ اور عبدالرحمٰن بن عُیَیْنَہ باہم برسر پیکار ہوئے اور انہوں نے عبدالرحمٰن سمیت اس کے گھوڑے کو زخمی کر دیا اور عبدالرحمٰن نے ان کو نیزہ مار کر شہید کر دیا اور ان کے گھوڑے پر سوار ہو کر مڑا۔

دوسری روایت میں ہے کہ حضرت اَخرم ؓکو اَوْبَار نے شہید کیا تھا۔ اَوبار اور اس کا بیٹا ایک ہی اونٹ پر سوار تھے۔ حضرت عکاشہ ؓنے ایک نیزہ مارا اور ان دونوں کو ایک ہی وار سے قتل کر دیا۔ایک اور روایت کے مطابق حضرت اخرم ؓکو مَسعدہ نے شہید کیا تھا۔

شہادت کے واقعہ کے متعلق ایک خواب کا بھی ذکر ہے۔

حضرت اخرم ؓنے دشمن کے ساتھ نبرد آزما ہونے سے ایک روز قبل خواب میں دیکھا تھا کہ میرے لیے آسمان کھل گیا ہے اور میں آسمان میں داخل ہو گیا ہوں حتی کہ میں ساتویں آسمان تک پہنچ گیا ہوں پھر سدرة المنتہیٰ تک پہنچ گیا۔ مجھے کہا گیا کہ یہی تمہاری منزل ہے۔ میں نے یہ خواب حضرت ابوبکرؓ کو بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ تمہیں شہادت مبارک ہو۔ اور اس کے ایک روز بعد انہیں شہید کر دیا گیا۔ حضرت مُحْرِزؓکے پیچھے حضرت ابوقتادہ ؓبھی پہنچ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار حضرت ابوقتادہ ؓکا مقابلہ عبدالرحمٰن بن عُیَیْنَہ سے ہوا۔ وہ باہم نیزہ بازی کرنے لگے۔ عُیَیْنَہ کے بیٹے نے حضرت ابوقتادہ ؓکے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دیں اور حضرت ابوقتادہ ؓنے اسے قتل کر دیا اور اس کے گھوڑے پر خود سوار ہو گئے۔(صحیح مسلم جلد9صفحہ 233تا 235کتاب الجھاد والسیر باب غزوہ ذی قرد و غیرھا حدیث:3358)(ماخوذ از شرح العلامہ الزرقانی علی المواھب اللدنیہ جلد 3 صفحہ 114 مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)( سبل الھدیٰ و الرشاد جلد 5 صفحہ 98 ،99 مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

حضرت ابوقتادہ ؓکے مَسْعَدَہ فَزاری سے مقابلے کے بارے میں بھی ذکر ملتا ہے۔

ایک روایت کے مطابق حضرت ابوقتادہ ؓکو اس واقعہ کی خبر ملی یعنی دشمن کے حملہ کی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہؓ کے ساتھ مدینہ سے سفر کر کے ذُباَبْ میں تشریف فرما تھے۔ جو ثَنِیَّةُ الوَدَاع سے اترتے ہوئے احد پہاڑ کے رستے میں ایک چھوٹا کالا پہاڑ ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپؐ نے فرمایا اے ابوقتادہ !آگے چلو اللہ تمہاری مدد کرے۔ حضرت ابوقتادہ ؓکہتے ہیں کہ میں روانہ ہوا اور میرے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا ۔ہم جلد ہی دشمن تک پہنچ گئے۔ ساتھی نے کہا کہ ان کے مقابلے کی طاقت ہم میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تم کہتے ہو کہ میں آنحضورؐ کے آنے تک انتظار کروں یعنی پورا لشکر پیچھے سے آجائے تب ہم حملہ کریں بجائے اب حملہ کرنے کے جبکہ ابوقتادہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ تم ایک طرف سے حملہ کرو اور میں دوسری طرف سے۔ پھر ان دونوں نے حملہ کر دیا اور دشمن کو مشکل میں ڈال دیا۔ دشمن نے ان پر تیر چلائے تو ایک تیر ان کی پیشانی پر جا لگا۔ حضرت ابوقتادہ ؓکہتے ہیں کہ میں نے وہ تیر نکالا تو مجھے ایسا لگا کہ میں نے لوہے کا ٹکڑہ نکال لیا ہے۔میں آگے بڑھا تو ایک تیز گھڑ سوار میرے سامنے آیا جس نے خَود پہن رکھا تھا۔ اس نے مجھے پہچان لیا لیکن میں نے اسے نہیں پہچانا۔ اس نے کہا اے ابوقتادہ !اللہ نے تمہاری اور میری ملاقات کرا دی ہے۔ اس نے اپنے چہرے سے خَود اتارا تو وہ مَسْعَدَہ فَزَارِی تھا۔ اس نے کہا کیا پسند کرو گے؟ شمشیر زنی،نیزہ بازی؟ کس طرح لڑنا ہے تم نے؟ تلوار سے لڑنا ہے، نیزے سے لڑنا ہے یا پھر کشتی کرنی ہے؟ میں نے کہا یہ تم پر ہے تم جو چاہتے ہو کر لو۔ اس نے کہا پھر کشتی لڑتے ہیں۔ اس زمانے میں جنگ کے بھی عجیب طریقے تھے۔وہ اپنی سواری سے نیچے اترا ۔میں بھی نیچے اتر آیا۔ میں نے اپنا گھوڑا ایک درخت کے ساتھ باندھا اور اپنااسلحہ وہیں رکھا اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ پھر ہم لڑنے لگے اور اللہ نے مجھے اس پر غلبہ دے دیا۔ میں اس کے اوپر چڑھ گیا۔ میں نے ارادہ کیا کہ اٹھوں اور اپنی تلوار لے لوں اور وہ بھی اپنی تلوار لے لے۔ ہم دو لشکروں کے درمیان تھے اس لیے ہم میں سے کسی پر بھی حملہ ہو سکتا تھا۔ میرے سر سے کوئی چیز آکر ٹکرائی۔ ہم لڑتے لڑتے مَسْعَدَہ کے ہتھیاروں تک پہنچ گئے۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کی تلوار اٹھا لی جب اس نے دیکھا کہ اس کی تلوار میرے ہاتھ لگ گئی ہے تو کہنے لگا کہ اے ابوقتادہ !میرا کچھ لحاظ رکھو۔ میں نے کہا نہیں اب تم اپنا ٹھکانہ جہنم دیکھ لو اور پھر اسے قتل کر دیا اور اسے اپنی چادر میں لپیٹ دیا۔ پھر میں نے اس کے کپڑے خود پہن لیے اور اس کے ہتھیار لے لیے اور اس کے گھوڑے پر سوار ہوا کیونکہ جب ہم لڑ رہے تھے تو میرا گھوڑا دشمن کی طرف بھاگ گیا تھا اور انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں۔ میں تیزی سے آگے بڑھا اور مَسْعَدَہ کے بھتیجے کو جا لیا۔ اس کے ساتھ مزید سترہ سوار تھے۔میں نے ان کو اشارہ کیا تو وہ ٹھہر گئے ۔پھر جب میں ان کے قریب پہنچا تو میں نے ان پر حملہ کر دیا اور مَسْعَدَہ کے بھتیجے کو نیزہ مارا اور اس کی گردن توڑ دی۔ اس کے ساتھی بھاگ گئے اور میں نے اونٹنیوں کو اپنے قبضہ میں لے لیا جو حضرت سَلَمہ بن اَکْوَعْؓ کے حملے کے وقت دشمن چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔(سبل الھدیٰ و الرشاد جلد 5 صفحہ 99، 100دار الکتب العلمیۃ بیروت)(فرہنگ سیرت صفحہ 125زوار اکیڈمی کراچی)(ماخوذ ازبخاری کتاب المغازی باب غزوہ ذات قرد وھی غزوات التی اغارو فیھا …حدیث: 4194)

اس غزوہ کی ابھی مزید تفصیل بھی ہے جو ان شاء اللہ آئندہ بیان ہو جائے گی۔


  • خطبہ کا مکمل متن
  • خطبہ کا مکمل متن
  • English اور دوسری زبانیں

  • 24؍ جنوری 2025ء شہ سرخیاں

    ظلم کی ابتداء کفار کی طرف سے تھی جنہوں نے بغیر کسی جائز وجہ کے محض اسلام کی عداوت میں
    بے گناہ مسلمانوں کے ساتھ ظالمانہ اور وحشیانہ سلوک کیا اور جو کچھ ان کی سزا میں کیا گیا وہ محض قصاصی اور جوابی تھا (سیرت خاتم النبیّین ؐ)

    عُرَنِیِّین کا یہ قصہ حدود کا حکم اترنے سے پہلے رونما ہوا تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس لشکر کو بھی بھیجا ان کو مُثلہ سے منع فرمایا اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کی ترغیب دیتے تھے اور مُثلہ سے روکتے تھے

    اگر سارے حالات کو سامنے رکھ کر غورکیا جائے تواس معاملہ میں اسلام کا دامن بالکل پاک نظر آتاہے کیونکہ دراصل یہ فیصلہ اسلام کا نہیں تھا بلکہ حضرت موسیٰ ؑکا تھا جن کی شریعت کو حضرت مسیح ؑناصری نے منسوخ نہیں کیا بلکہ برقرار رکھا (سیرت خاتم النبیّین ؐ)

    سریہ کُرز بن جابر اور غزوہ ذی قردکےتناظر میں سیرت نبوی ﷺ کا بیان

    فرمودہ24؍ جنوری 2025ء بمطابق24؍ صلح 1404 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

    قرآن کریم میں جمعة المبارک
    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ (سورة الجمعہ، آیت ۱۰)
    اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن کے ایک حصّہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔

    خطبات خلیفة المسیح

  • تاریخ خطبہ کا انتخاب کریں
  • خطبات جمعہ سال بہ سال
  • خطبات نور
  • خطبات محمود
  • خطبات ناصر
  • خطبات طاہر
  • خطبات مسرور